Monday, 03 November, 2008, 20:08 GMT 01:08 PST
حسن مجتبی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
’تمہیں یاد ہے کولمبیا یونیورسٹی میں وہ دبلا پتلا سیاہ فام لڑکا جو ہر وقت کاندھے پر جم بیگ لیے پھرتا تھا؟ شکاگو کے کسی کالج سے ٹرانسفر ہو کر آیا تھا !‘۔ مجھے سنہ انیس اسّی کی دہائي میں نیویارک کی کولمبیا یورنیورسٹی میں پڑھنے والا ایک افریقی امریکی کمپیوٹر کنسلٹنٹ نگاش اپنے ایک دوست کو یاد دہانی کرواتے ہوئے بتا رہا تھا۔
جی ہاں کولمبیا یونیورسٹی کے ہزاروں طالب علموں میں انڈر گریجويشن کرنے والا یہ لڑکا آج کا باراک اوباما ہے جو اب امریکہ اور دنیا میں کروڑہا لوگوں کی نظر اور بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دنیا سانس روکے چلتی گھڑی کے سیکنڈ کانٹوں پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ اوباما وائٹ ہاؤس کا متوقع سیاہ فام مکین امریکی صدارات کی دوڑ میں بہت آگے ہے۔ ’امریکہ کے موجودہ انتخابات امریکی عوام کے ذہانت کا ریفرنڈم اور انٹرنیشنل انتخابات ہیں‘۔ نگاش مجھ سے کہہ رہے تھے۔
اپنی اصل جنم دھرتی ایتھوپیا سے انیس سو ستر کی دہائي میں امریکہ آنے والے اور کولمبیا یونیورسٹی میں بین الاقوامی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے اور امریکہ میں کالے لوگوں کے حقوق اور جنگ ویتنام کی مخالف تحریک میں بھی سرگرم رہنے والے نگاش مجھے بتارہا تھا ’میں نے اپنی زندگي میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک سیاہ فام آدمی امریکہ میں صدارت کا امیدوار ہوگا‘۔
میں قلم، نوٹبک اور کمیرہ سنبھالے ذہن میں سیاہ فام لوگوں کیلیے ایک سوال لیے نکلا تھا:
’بلیک امریکہ تین روز بعد بارک اوباما (اگر منتخب ہوتے ہیں) سے کیا توقع رکھتا ہے اور یہ کہ باراک اوباما سیاہ فام لوگوں کیلیے
خاص طور پر کیا کرسکتے ہیں؟‘
![]() |
|
| ہارلیم میں ہر چیز اوباما تھی |
’اگر‘ صدر ہوگیا سے تمہارا کیا مطلب ہے۔ وہ صدر یقیناً بن جائے گا‘ اور ’ہیریٹج‘ نامی افریقی امریکی سوینئر شاپ میں، ہاتھ سے بنائي ہوئی ٹی شرٹیں اور کارڈ ڈیزائین کرنے والے بے بی فیس نامی نوجوان نے الٹا مجھ سے سوال کیا۔ میں نے ریگا موسیقی کے اپنے دور کے باراک اوباما، بوب مارلے کی تصویر دیکھ کر سوچا۔
اور اب سب سے زیادہ بکنے والی آج کے اصلی باراک اوباما کی ڈیزائنر ٹی شرٹیں، سی ڈیز اور ہر چيز اوباما بک رہی تھی۔ جن کو کچھ بیچا نہیں جا سکتا تھا وہ بھی خرید رہے تھے _ تین الفاظ: ’امید، تبدیلی اور اکانومی‘ تھے جو میں نے، جن سے بھی ملا ان سے بار بار سننے کو ملے۔
ایرون ہالیڈے ایک راہ چلتا ہوا بیروزگار کلرک اور کنسٹرکشن ورکر تھا۔ اس کے جواب کے پہلے الفاظ تھے ’ایکوئییل اپرچونیٹیز‘ (یکساں
مواقع) ہم اس سے (اوباما سے) کیا توقع کرسکتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے یہ اتنا آسان نہیں۔ وہ صرف سیاہ فاموں کا صدر تو نہیں ہوگا۔ وہ
تو سب کا صدر ہوگا۔ ہم اسے ایک اچھا لیڈر دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بہتر، اچھا لیڈر ہے اور ظاہر ہے
ہم چاہییں گے کہ اوباما اکانومی ٹھیک کرے گا اور مزید روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ لیکن یہ سب ایک دن کا تو کام نہیں ہے نہ!
ایرون ہالیڈے نے بات مکمل کی۔
![]() |
|
| اوباما نے ایک سیاہ فام ہوکر امریکہ کی صدارت کیلیے امیدوار بننے کی قابلیت دکھا دی ہے |
ہارلیم میں ایک سو پچیس سٹریٹ جس کے دونوں سائيڈ واکس یا فٹ پاتھوں پر سٹالز اور بوتھ لگے ہوئے ہیں اور یہاں کے وینڈروں اور خوانچہ فروشوں کی تنظیم ’ون ہنڈریڈ ٹوئنٹی ففتھ سٹریٹ وینڈرس ایسوسی ایشن‘ ہے جس نے اوباما کے لیے زبردست چندہ جمع کیا ہے۔ اس کے نمائندے بیٹری مین نے کہا ’میں واشنگٹن میں اس مارٹن لوتھر کنگ جونئر کے ملین مین مارچ میں بھی شامل تھا‘۔
انہوں نے کہا ’مری عمر چونسٹھ برس ہے لیکن میں نے کبھی بھی زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ امریکہ میں سیاہ فام آدمی صدارت کا امیدوار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’اوباما کا کیا یہ بہت بڑا کام نہیں کہ وہ سفید فام آدمی کی گولی سے پرے رہنے میں کامیاب ہوا اور خود کو امریکی صدارت کا اہل ثابت کیا ہے، اس سیاہ فام آدمی کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں، آپ کا ریکارڈ سفید آدمی بناتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ریسیٹورانوں پر ’صرف سفید فاموں کیلیے‘ لکھا ہوتا تھا۔ جب کالے آدمی کے ہاتھ جو کنسٹرکشن یا تعمیراتی کام سے کھردرے ہوجا تے تھے چیک کرکے کہا جاتا تھا کہ ’تم چور ہو‘۔ مجھے اوباما سے توقع ہے کہ وہ صرف سیا فام لوگوں کا نہیں سب کا صدر ہوگا اور خاص طور اس سے سفید فام لوگوں کے ساتھ مساوی طور پر چلنے کی توقع ہے‘۔
بیٹری مین کے نزدیک ’بلیک امریکہ کیا ہے؟‘ وہ کہتے ہیں ’بلیک امریکہ ایک سراب ہے جو میڈیا کا تخلیق کردہ ہے‘۔
![]() |
|
| ’مری عمر چونسٹھ برس ہے لیکن میں نے کبھی بھی زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ امریکہ میں سیاہ فام آدمی صدارت کا امیدوار ہوسکتا ہے |