Friday, 31 October, 2008, 12:04 GMT 17:04 PST
امریکہ میں ووٹروں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کا اب یہ خیال ہے کہ سارا پیلن میں وہ صلاحیتیں موجود نہیں ہیں جو ملک کی نائب صدر بننے کے لیے ضروری ہیں۔
نیو یارک ٹائمز اور سی بی ایس کے ایک تازہ جائزے کے مطابق جن ووٹروں سے رابطہ کیا گیا، ان میں سے انسٹھ فیصد کا یہ خیال ہے کہ سارا پیلن نائب صدر کے عہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ رواں ماہ کے اوائل میں یہ تعداد پچاس فیصد تھی۔
تقریباً ایک تہائی ووٹروں کا خیال تھا کہ نائب صدر کے لیے جان مکین کا انتخاب ان کے اس فصیلہ پر اثر انداز ہوگا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ اور ان میں سے زیادہ تر ووٹر باراک اوباما کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس جائزے سے واضح ہے کہ سارا پیلن کا انتخاب جان مکین کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا رہا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر ووٹروں کے خیال میں جان مکین کے مقابلے میں باراک اوباما اپنی حکومت میں شامل کرنے کے لیے زیادہ اہل لوگوں کا انتخاب کریں گے۔
جائزے میں حصہ لینے والے بارہ فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔
جائزہ سے معلوم ہونے والی دیگر اہم باتیں یہ ہیں:
باراک اوباما بدستور آگے ہیں۔ اکیاون فیصد ووٹر ان کے حق میں ہیں جبکہ چالیس فیصد جان مکین کے ساتھ۔
نسل سے متعلق بعض تاثرات بدل رہے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے جن کے خیال میں سیاہ اور سفید فام لوگوں کے وہائٹ ہاؤس میں پہنچنے کا برابر کا موقع ہے۔
نواسی فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ معیشت کی حالت خستہ ہے اور پچاسی فیصد کے خیال میں ملک غلط راستے پر ہے۔
معیشت، حفظان صحت اور عراق کی جنگ جیسے اہم موضوعات پر باراک اوباما کو بدستور سبقت حاصل ہے۔
باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے کی راہ میں اس وقت ان ووٹروں کو سب سے بڑا خطرہ مانا جارہا ہے جو جائزوں میں تو یہ کہہ دیتے ہیں وہ باراک اوباما کو ووٹ دیں گے لیکن پولنگ بوتھ میں جاکر سفید فام امیدوار کو ووٹ دے دیتے ہیں۔
لیکن اب جائزے میں حصہ لینے والے دو تہائی ووٹروں کا کہنا ہےکہ آج کے معاشرے میں ننسل کا وہائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے امکانات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جولائی میں یہ تعداد صرف پچاس فیصد تھی۔
اور اس وقت چودہ فیصد کا کہنا تھا کہ جتنے لوگوں کو وہ جانتے ہیں ان میں سے زیادہ تر سیاہ فام صدارتی امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ لیکن اب ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت کم ہوگئی ہے۔