http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 15 December, 2007, 04:47 GMT 09:47 PST

امریکی فوج کے لیے مزید ڈالر

امریکہ میں پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے عراق جنگ کے لیے مزید رقم کی فراہمی کے بل کی منظوری دے دی ہے اور اس بل کو عراق سے فوجوں کے انخلاء کے حزب اختلاف کے مطالبے سے مشروط بھی نہیں کیا ہے۔

عراق اور افغانستان میں موجود فوجوں کے لیے مزید ایک سو نواسی ارب ڈالرفراہم کرنے کے اس بل کے حق میں نوے جبکہ مخالفت میں صرف تین ووٹ ڈالے گئے۔

امریکہ کے ایوان بالا سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کو اکاون فیصد کی برتری حاصل ہے۔ انہوں نے اس حکومتی اقدام کو قبول کرتے ہوئے عراق سے فوجوں کے انخلاء کے اپنے مطالبے پر زور نہیں دیا۔

اس بل کو ایوان نمائندگان سے پہلے ہی منظور کرایا جا چکا ہے اور اب صدر بش کے دستخطوں کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی صورت اختیار کر لے گا۔

یہ بل سن دو ہزار آٹھ کے مالی سال کے لیے ہے جو ستمبر میں ختم ہو گا۔

مجموعی طور پر اس مالی سال میں فوج کے لیے چھ سو چھیانوے ارب ڈالر رکھے گئے ہیں جس میں ایک سو نواسی ارب ڈالر عراق اور افغانستان کے لیے رکھے گئے ہیں۔

حکمران جماعت رپبلکن پارٹی نے سینیٹ میں اس بل کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا۔سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے لیڈر مچ میکونل نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پیٹرس کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ان کا اشارہ عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرس کے اس منصوبے کی طرف تھا جس کے تحت عراق میں امریکی فوج میں تشدد کو روکنے کے لیے اضافہ کیا گیا تھا۔

صدر بش نے کانگرس سے عراق اور افغانستان میں فوج کے لیے اضافی ہنگامی رقم فراہم کرنے کے لیے کہا تھا جبکہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے خبردار کیا تھا کہ اگر رقم فراہم نہیں کی گئی تو اگلے سال فروری تک پیسے ختم ہو جائیں گے۔