Wednesday, 07 November, 2007, 11:06 GMT 16:06 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے سینئیر معزول جج جسٹس شاہ جہان خان یوسف زئی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کو عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے پر کئی’آفرز‘ کیے گئے ہیں تاہم انہوں نے انکار کردیا ہے۔
بدھ کو پشاور میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’حکومت نے مجھ سے مختلف ذریعوں سے رابطے کی کوشش کی اور کئی پیشکشیں بھی کی۔ سپریم کورٹ کا جج بنانے کی آفر کی گئی لیکن میں نے تمام آفرز مسترد کردیے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ جنرل پرویز مشرف نے آئین کی موجودگی میں پی سی او نافذ کیا اور اس کے ذریعے سے آئین کو معطل کرکے بغاوت کے مرتکب ہوئے جس کی سزا آئین کی دفعہ چھ کے مطابق سزائے موت ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے جج اگر عوام کو سستا انصاف فرام نہیں کرسکتے اور عدالتیں ربڑسٹمپ کی طرح کام کرتی رہی تو ملک کی عدالتیں ’ کینگرو کورٹس‘ بن جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مارشل لاء میں اعلٰی عدلیہ عوام کو انصاف فراہم نہیں کرسکتی تو ججز کو دس فٹ اونچے سٹیج پر بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے اور اس غریب ملک کے خزانے پر کیوں بوجھ بنے رہے ؟‘
شاہ جہاں خان نے اور کہا کہ ’ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانا قوم سے غداری کے مترادف ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں معزول جج کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں عوام سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں پھر ہمیں کیوں حفا ظتی تحویل میں رکھا جارہا ہے۔ ہمیں اگر خطرہ ہے تو وہ صرف حکومت اور جرنیلوں سے ہے جن پر خود بھی حملے ہو رہے ہیں۔‘
ان کا کہا ہے کہ ان سے گھر پر ملنے والے ماتحت عدالتوں کے ججوں اور وکلاء کی تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہے تاکہ ان کے خلاف کسی سٹیج پر پی سی او کے تحت حلف سے انکار کرنے کے حوالے سے کاروائی کی جاسکے۔
وکلاء کی تحریک کو خراج تحسین کرتے ہوئے برطرف جج نے کہا کہ وکلاء عدلیہ کی ازادی کے لیے جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ ایک دن ضرور رنگ لائی گی۔
یاد رہے کہ جسٹس شاہ جہان خان یوسف زئی کا تعلق صوبہ سرحد کے شہر مردان سے ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سینئیر ترین جج تھے۔