Monday, 24 September, 2007, 02:09 GMT 07:09 PST
ماہ پارہ صفدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جلا وطن رہنما میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے کہا ہے کہ انہیں سیاست میں آنے کی کوئی تمنا نہیں اور انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ صرف کارکنوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے لندن سٹوڈیو میں ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ’میرے پاکستان جانے کا حتمی فیصلہ پارٹی کرے گی ۔ اور تاریخ کا اعلان بھی وہیں سے ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ میاں نواز شریف کی نشست سے انتخاب لڑیں گی لیکن وزیر اغطم کے عہدے کی امیدوار نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ بیگم کلثوم نواز نے دس ستمبر کو نواز شریف کی دوبارہ جلا وطنی کے فوراً بعد پاکستان جا کر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
دس ستمبر کو نواز شریف کی وطن واپسی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) اور اس کے ساتھ اتحاد میں شامل جماعتوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے اسلام آباد ایئر پورٹ پر لاکھوں لوگ جمع ہوں گے۔
اس حوالے سے کیئے جانے والے سوال کے جواب میں بیگم کلثوم نواز نے مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کی ناکامی کا اعتراف کیا۔
اس سوال پر کہ دس ستمبر کی صبح حزب اختلاف کا حکومت مخلاف نو مولود اتحاد ’اے پی ڈی ایم‘ کہاں تھا انہوں نے کہا کہ یہ ہی سب جاننے کے لیے انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
![]() | |
| کلثوم نواز الیکشن لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں |
کلثوم نواز نے کہا کہ وہ ایک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ پاکستان جارہی ہیں اور اس کا مقصد ملک سے آمریت کا خاتمہ اور پرویز مشرف کی حکومت کی جگہ جمہوریت کی بحالی ہے۔
![]() | |
تاہم بیگم کلثوم نواز حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے کسی واضح حکمت عملی کا اظہار نہیں کر سکیں۔
بیگم کلثوم نواز نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ پاکستان کی انتخابی سیاست میں نواز شریف کا فی الحال کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ موجودہ اسمبلی میں نواز لیگ کی محض انیس نشستیں ہیں اور پا رٹی بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکی ہے۔
کلثوم نواز نے کہا کہ جنرل مشرف نے آئین اور قانون کا مذاق بنا رکھا ہے۔
کلثوم نواز سمجھتی ہیں |
بی بی سی اردو کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے جلاوطنی کے دوران نجی زندگی کے بارے میں بھی پہلی مرتبہ کئی ایک سوالوں کے جواب دیئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا تختہ الٹ دیئے جانے کے بعد پارٹی قیادت سنبھال کر اس لیے چھو ڑ دی کیونکہ سیاست ان کا شعبہ نہیں۔ لیکن پارٹی کو ان ضرورت تھی۔ دوبارہ عملی سیاست میں آنے کے فیصلے کے پیچھے بھی یہ ہی جذبہ کارفرما ہے۔
کلثوم نواز نے اس تاثر کی نفی کی ان کا خاندان پارٹی کی قیادت پر قابض رہنا چاہتا ہے۔ ۔انہوں نے کہا ان کی جماعت میں بہت سے معتبر سیاستدان موجود ہیں۔ وہ سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہیں۔
ہجاز مقدس میں جلا وطنی |
بیگم کلثوم نواز سے جب نواز شریف کی جلا وطنی کا موازنہ مغل فرما روا بہادر شاہ ظفر کی جلا وطنی سے کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر جلا وطن کیئے جانے کی وجہ سے انہیں روحانی اور ذہنی سکون ملا۔
سکون قلب اسی بندگی میں ملتا ہے |