http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 08 June, 2007, 01:51 GMT 06:51 PST

پیرس ہلٹن دوبارہ عدالت میں طلب

لاس اینجلس کے ایک جج نے پیرس ہلٹن کو جمعہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا انہیں واپس جیل بھیجا جائے یا نہیں۔

ہلٹن ہوٹلوں کی چین کی وارث پیرس ہلٹن کو نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر دی گئی پروبیشن کی خلاف ورزی کرنے پر 45 دنوں کی قید کی سزاسنائی گئی تھی اور صرف تین دن بعد ہی جمعرات کو انہیں جیل سے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

انہیں ایک الیکٹرانک ٹیگ لگا کر صحت کی بنیاد پر گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ باقی سزا گھر پر ہی پوری کریں۔

ان کی اس رہائی پر ملک میں خاصی نکتہ چینی کی گئی کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔اب انہیں واپس عدالت میں طلب کیا گیا ہے جہاں یہ طے کیا جائے گا کہ انہیں واپس جیل بھیجا جائے یا نہیں۔

لاس اینجلیس کی عدالت میں دائر کیے گئے چالان کے متعلق جب 15 جنوری کو کیلیفورنیا ہائی وے پیٹرول نے انہیں بغیر بتی کےگاڑی چلاتے پکڑا تھا تو اس وقت بھی ان کا لائسنس معطل تھا۔

اس وقت 26 سالہ پیرس ہلٹن نے ایک کاغذ پر دستخط کیے تھے کہ انہیں گاڑی چلانےکی اجازت نہیں ہے۔
پیرس ہلٹن
پیرس کسی نے کسی حوالے سے خبروں مییں رہتی ہیں

27 فروری کو جب وہ بتیوں کے بغیر گاڑی چلاتے دوبارہ پکڑی گئیں تو ان پر پروبیشن کی خلاف ورزی کا مقدمہ بنا۔

جب عدالتی کارروائی کے دوران پیرس ہلٹن کو جیل میں رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تو ان کی ماں کیتھی نے قہقہ لگایا تھا اور جج مائیکل سوؤر سے ان کا آٹوگراف لینے کے متعلق کہا۔

جب جج نے پیرس کو سزا سنائی تو وہ رونے لگیں اور ان کی ماں نے وکیلِ استغاثہ کو چلا کر کہا تھا کہ ’تم قابلِ نفرت ہو‘۔

پیرس ہلٹن کے ایک وکیل نے کہاتھا کہ جج کی طرف سے دی جانے والی سزا غیر منصفانہ ہے۔