Wednesday, 23 May, 2007, 08:22 GMT 13:22 PST
ایک اعلی سطحی ملاقات کے دوران امریکہ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں معاشی اصلاحات کا عمل تیز کرے۔
امریکی وزیرخزانہ ہنری پالسن نے واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات میں کہا کہ چین کو چاہئے کہ وہ ’مستقل تجارتی اور مالی عدم توازن‘ کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
امریکی مالی اداروں نے چین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کرنسی کی قدر کم رکھ کر اپنی برآمدات کو فروغ دیتا ہے جس سے امریکی ملازمتوں کے لیے خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
مگر چین کی نائب وزیراعظم وُو یی نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے ’ہمارے اندرونی مسائل کے لیے دوسروں کومورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہئے۔‘
مسٹر پالسن کا کہنا ہے کہ امریکہ تجارتی میدان میں چین کا مقابلہ کرنے سے خوفزدہ نہیں، مگر وہ چین میں تبدیلی کے عمل کی رفتار کے بارے میں فکرمند ہے۔
تاہم مِس وُو نے خبردار کیا کہ تجارتی اور معاشی امور کو سیاسی رنگ دینا ان کے لیے قابل قبول نہ ہوگا اور اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی عدم توازن دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا خواہشمند ہے۔
ان کے بقول ان اقدامات میں امریکہ سے درآمدات میں اضافہ بھی شامل ہے۔
چین کے ساتھ تجارتی خسارے پر امریکہ میں خاصی گبھراہٹ پائی جاتی ہے۔ یہ خسارہ گزشتہ سال بڑھ کر دو کھرب تینتیس ارب ڈالر تک جا پہنچا تھا۔
اسی خوف کی وجہ سے امریکی ارکانِ کانگریس نے چین کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا کیونکہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ چین نے مصنوعی طور پر اپنی کرنسی ’یوآن‘ کی قیمت کم رکھی ہوئی ہے تاکہ اس کی صنعت کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہو۔
بعض اراکین کانگریس کا کہنا ہے کہ چینی کرنسی یوآن کی ازسر نو قدر مقرر کی جائے جو چالیس فی صد زیادہ ہوسکتی ہے۔
گزشتہ برس جب چینی حکومت نے محدود پیمانے پر یوآن کی کھلی منڈی میں لین دین کی اجازت دی تھی اس کے بعد سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں پانچ فی صد اضافہ ہوا ہے۔
پیچیدگی بڑھے گی |
اگرچہ چین اور امریکہ کے مابین ان اعلی سطحی مذاکرات سے قبل خیرسگالی کا یہ اچھا انداز ہے تاہم کرنسی کا کاروبار کرنے والے کہتے ہیں کہ اس سے عملی طور پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دن کے آغاز پر یوآن کی قیمت کا تعین تو بہرحال پیپلز بینک آف چائنا ہی کرے گا۔
چین پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے بنائے ہوئے کمپیوٹر پروگراموں اور ڈی وی ڈیز کے پیٹنٹ رائٹس یا جملہ حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے۔
امریکہ نے چینی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے زرِ تلافی کے بارے میں بھی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے شکایت کی ہے۔
تاہم ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ان باتوں کو دوطرفہ تجارتی خسارے پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔
وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی تجارت میں امریکی خسارے کا سبب یہ ہے کہ امریکی صارف بچت نہیں کرتے اور بڑی مقدار میں غیرملکی مصنوعات خریدتے ہیں جبکہ چینی اور دوسرے ایشیائی صارف بچت زیادہ کرتے ہیں۔