Sunday, 15 April, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں نےافغانستان میں ایک خود کش بم حملے کے جواب میں ضرورت سے زیادہ تشدد کا استعمال کر کے انسانی حقوق کے بین الاقوانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
4 مارچ کو ننگر ہار صوبے میں ہونے والے اس واقعہ میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔
افغانستان ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ کہ امریکی فوج کا رد عمل غیر متناسب تھا۔رپورٹ کے مطابق خصوصی کمانڈ یونٹ نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو بھی ہلاک کیا۔
اس واقع کے بارے میں امریکی فوج کی اپنی ابتدائی تحقیقات میں بھی کہا گیا تھا کہ فوجیوں کا رد عمل غیر متناسب تھا۔
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری اور فوجی ٹھکانوں میں تمیز کرنے کے بجائے امریکی فوجی دستوں نے طاقت کا بے جا استعمال کیا اور ان کی یہ کارروائی انسانی حقوق سے متعلق عالمی ظابطوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ جلال آباد شہر کے نزدیک ننگر ہار میں یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب فوجیوں کے ایک قافلے پر ایکے خود کش بم دھماکہ اور فائرنگ کی گئی ۔
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ننگر ہار میں امریکی فوجیوں کی کارروائی کا نشانہ بننے والوں ، پولیس اور ہسپتال کے افسران اور عینی شاہدین سے بھی بات کی جس سے بات سامنے آئی کہ فوجیوں نے شہریوں اور ان کی گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ننگر ہارمیں اس تشدد کے بعد کے مناظر سے متعلق ویڈیو فٹیج سمیت اس کی تصاویر تک مٹا دیں۔اس واقعہ کے بعد نیٹو کی قیادت والی فوج کے تحت کام کرنے والے ان فوجیوں کو افغانستان سے باہر بھیج دیا گیا۔