http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 14 April, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST

جنسیات کی تعلیم بے اثر

امریکہ میں طالب علموں کو جنسی تعلقات سے باز رکھنے کے لئے شروع کئے گئے تربیتی پروگرام کے موثر ہونے کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس خصوصی پروگرام میں شامل طالب علموں کے رشتہ ازدواج سے قبل جنسی عمل میں ملوث ہونے کے امکانات پروگرام کا حصہ نہ بننے والے طالب علموں جتنے ہی ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی دور کے پچھلے چند سالوں کے دوران غیر ازدواجی جنسی تعلقات کی حوصلہ شکنی کے لئے شروع کئے گئے ان پروگراموں پر اخراجات ایک کروڑ ڈالر سے بڑھ کر سترہ کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مقاصد کے حصول میں یہ پروگرام ناکام رہے ہیں۔

کانگریس کے کہنے پر شروع کی گئی اس تحقیق میں امریکہ کےبڑے شہروں سے لیکر چھوٹے دیہات تک سے طلبا کو شامل کیا گیا تھا۔

جنسی عمل سے پرہیز کے لئے شروع کئے گئے پروگرام میں شمولیت کے وقت بیشتر کی عمریں گیارہ سے بارہ سال کے درمیان تھیں۔ طلبا کے ان ہم عصروں کو بھی تحقیق میں شامل کیاگیا تھا جو کبھی ان خصوصی پروگراموں کا حصہ نہیں رہے تھے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق پروگرام سے گزرنے والے طالب علموں نے بھی تقریباً اتنی ہی عمر میں جنسی عمل میں حصہ لیا جتنی عمر میں ان لوگوں نے لیا تھا جو اس پروگرام میں شامل نہیں تھے، اور یہ عمر ہے چودہ سال اور نو ماہ۔

بش انتظامیہ نے خبر دار کیا ہے کہ اس تحقیق سے کوئی معنی خیز نتیجہ نکالنے کی کوشش نہ کی جائے۔