Thursday, 04 January, 2007, 08:57 GMT 13:57 PST
برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس سال درجہ حرارت میں اور اضافہ ہوگا اورامکان ہے کہ یہ سال پہلے سے زیادہ گرم رہےگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں بعض خاص تبدیلیوں کے سبب اس سال کرہ ارض پر درجہ حرارت بڑھےگا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس بات کے امکانات ہیں کہ اس برس سنہ انیس سو اٹھانوے سے بھی زیادہ گرمی پڑ ے گی۔
اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ دوہزار چھ میں اوسطا برطانیہ میں پہلے سے کہیں زیادہ گرمی تھی اور سنہ انیس سو چودہ، جب سے درجہ حرارت کے ریکارڈ کا سلسلہ شروع ہواہے کبھی اتنی گرمی نہیں ہوئی تھی۔
اس برس اوسطا درجہ حرارات 0.54C ڈگری رہےگا جو موجودہ 0.52C سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل 0.54C درجہ حرارت سنہ انیس اٹھانوے میں ہوا تھا۔
موسم کے متعلق یہ تفصیلات یونیورسٹی ایسٹ انجیلیا کی مدد سے برطانوی محکمہ موسمیات کے دفتر ہیڈلی سینٹر نے جمع کی ہیں۔ اس کے سربراہ کرس فولانڈ کا کہنا ہے کہ یہ پیشین گوئی دو بنیادوں پر کی گئی ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ روز برو ز کی ہنگامہ آرائیوں سے گرین ہاؤس گیسیز نکلتی ہیں۔’ گرین ہاؤس گیسیز سے درجہ حرارت بڑھتا ہے جبکہ ایروسولز سے سردی بڑھتی ہے تو جس مقدار میں گرین ہاؤس گیسیز میں اضافہ ہوگا اسی مقدار سے گرمی بھی بڑھےگی۔‘
![]() | |
| سمندر میں بعض خاص تبدیلیوں کے سبب بھی درجہ حرارت بڑھتا ہے |
ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں اس کے آثار ابھی سے نمایاں ہیں اور کچھ ماہ بعد اس کے اثرات بھی دیکھے بھی جا سکیں گے۔
کرس فولانڈ کے مطابق انہیں بنیادوں پر اس سے قبل کئی بار پیشین گوئی کی گئی ہے اور وہ صحیح ثابت ہوئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ساٹھ فیصد اس بات کے امکانات ہیں کہ اس برس درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم ہوگا۔
ہیڈلی سینٹر موسم کے متعلق گزشتہ سات برسوں سے پیشین گوئی کرتا آرہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عام طور اس کی پیشین گوئیاں صحیح ثابت ہوئی ہیں۔