Thursday, 05 October, 2006, 19:20 GMT 00:20 PST
سابق برطانوی وزیر خارجہ اور دارالعوام کے قائد جیک سٹرا نے اپنے ایک مضمون میں مسلم خواتین کی طرف سے چہرے کو نقاب سے مکمل طور پر چھپانے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مختلف ’برطانوی کیمیونٹیز‘ کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات میں مشکل پیش آرہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ خواتین جب انہیں دفتر میں ملنے آتی ہیں تو وہ انہیں نقاب اتارنے کا کہتے ہیں تاکہ ’واقعی منہ در منہ بات ہو سکے۔ میرے خدشات بے جا بھی ہوسکتے ہیں لیکن بہر حال یہ ایک مسئلہ ہے‘۔
جیک سٹرا بلیک برن کے علاقے سے منتخب ہوتے ہیں جہاں ایک چوتھائی آبادی مسلمان ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’ فون کال اور خط کے مقابلے میں ایک ملاقات کی اہمیت یہ ہے کہ آپ مخاطب کو صرف سن نہیں رہے ہوتے بلکہ اسے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں کہ حقیقت میں وہ کہنا کیا چاہ رہا ہے‘۔
بعد میں بی بی سی ریڈیو لنکا شائر کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ (نقاب اوڑھنا) ایک مسئلہ ہے جس پر بات ہونی چاہیے، لوگوں کو چہروں سے ہی پہچانا جاتا اور ’اگر نقاب ہے تو آپ ایسا نہیں کر پاتے‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بعض خواتین نقاب کیوں اوڑھتی ہیں۔ اپنے حلقے کی ایک خاتون کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بقول نقاب میں باہر نکلتے ہوئے وہ خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔
’لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ وہ خواتین جو نقاب پہنتی ہیں کیا وہ اس عمل کے سماجی تعلقات پر پڑھنے والے اثرات بارے سوچتی ہیں؟‘
جیک سٹرا 1997 سے لیکر 2005 تک برطانیہ کے وزیر خارجہ رہے، یہ وہ دور تھا جب عراق پر دباؤ ڈالا گیا اور پھر حملہ کیا گیا۔