http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 07 September, 2006, 06:05 GMT 11:05 PST

1857 کی جنگ، جہاد یا جنگ آزادی

انڈیا میں اگلے سال اٹھارہ سو ستاون کی بغاوت یا ’پہلی جنگ آزادی‘ کی ایک سو پچاسویں سالگرہ منائی جائے گی۔ روایتی تاریخ کہتی ہے کہ ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اس بنا پر بغاوت کی تھی کہ ان کی بندوقوں کی گولیوں پر جانوروں کی چربی چڑھی ہوئی تھی جسے چھونا ان کے مذہب میں منع تھا۔

لیکن عالمی شہرت یافتہ مؤرخ ولیم ڈیلرمپل کہتے ہیں کہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔

ڈیلرمپل نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بارے میں کتاب کے لیئے تحقیق کے دوران چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔

سوال: آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ 1857 کی بغاوت بنیادی طور پر مذہبی جنگ تھی جبکہ اسے عام طور پر برطانوی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف بغاوت مانا جاتا ہے؟
اب تک مؤرخین نے اٹھارہ سو ستاون کی بغاوت کے بارے میں زیادہ تر برطانوی ذرائع پر انحصار کیا ہے۔ اپنی نئی کتاب ’دی لاسٹ مغل‘(آخری مغل) کے لیئے تحقیق کے دوران میں نے اور میرے ساتھی محمود فاروقی نے بغاوت کرنے والوں کے اردو اور فارسی زبانوں میں ان بیس ہزار دستاویزات کا مطالعہ کیا جو سپاہیوں کے کیمپ اور دِلّی کے قلعے سے ملے تھے اور اب برطانوی قومی دستاویزات کے دفتر نیشنل آرکائیو میں موجود ہیں۔ ان دستاویزات میں باغی بار بار اپنی تحریک کو مذہبی جنگ قرار دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ نجی نوعیت کی شکایت بھی ضرور ہوں گی لیکن اب واضح ہو چکا ہے کہ باغیوں کے خیال میں وہ مذہب کی بقا کی لڑائی لڑ رہے تھے اور اسے اسی طرح بیان کرتے تھے۔

سوال: سو یہ غیر ملکی تسلط کے خلاف بغاوت نہیں تھی جیسا کہ عام خیال ہے؟
دونوں پہلوؤں کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن باغیوں کو اپنے ملک پر غیر ملکی قبضے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات اپنے مذہب کو لاحق
خطرے سے تھی۔ ان کے بیانات میں بار بار ’دین‘ اور ’دھرم‘ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور یہ جنگی نعروں کے طور پر بھی استعمال ہوئے۔ یہ خود مختاری اور اقتصادی آزادی جیسے ان غیر مذہبی نعروں سے زیادہ نظر آتے ہیں جو کہیں کہیں ملتے تو ہیں لیکن اِن کا ذکر عیسائیت مسلط کرنے کے برطانوی ارادوں پر تشویش کے ذکر سے کم ہے۔

سوال: کیا آپ اسے پہلا ہندوستانی جہاد کہیں گے؟ بغاوت میں حصہ لینے والے زیادہ تر سپاہی تو ہندو نہیں تھے کیا؟
ہر رجمنٹ میں پینسٹھ سے پچاسی فیصد سپاہی اعلیٰ ذات کے ہندو تھے لیکن جیسے جیسے بغاوت پھیلی بہت سے غیر وابستہ جہادی ان سپاہیوں سے مِل گئے، جبکہ دِلی میں فوجیوں کو خوراک اور تنخواہ نہ ملنے کا مطلب تھا کہ سپاہی کم ہوتے گئے اور بہت سے بھوکے اور مایوس گھر لوٹ گئے۔

جب دِلی کا محاصرہ ختم ہوا تو بہت سے مبصرین کے مطابق باقی بچنے والے باغیوں میں آدھے جہادی تھے جنہوں نے چودہ ستمبر کو برطانوی حملے کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت کی تھی۔

سوال: آپ کا کہنا ہے کہ سپاہی ہندوستان میں مشنریوں اور عیسائیت کی ترویج کے خلاف بغاوت کر رہے تھے؟

باغیوں کے ان کاغذات میں جن کا ہم نے ترجمہ کیا ہے سب سے زیادہ اسی شکایت کا ذکر ہوا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دِلّی کا معاملہ ملک کے دیگر حِصوں میں اٹھنے والی تحریکوں سے مختلف ہو۔

میں یہ کبھی نہیں کہا کہ یہ پہلے جہادی تھے۔اس سے پہلے شام کے اسماعیلیوں اور ایران میں گیارھویں صدی کے بعد خودکش جہادیوں کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن بغاوت سے متعلق دستاویزات میں خاص طور پر جہادیوں کی رجمنٹ کا ذکر ہے جو گوالیار سے دِلّی آئی تھی اور جو ’خودکش غازی‘ کہلاتے تھے۔ انہوں نے کبھی نہ کھانے کا اور کافروں کے ہاتھوں موت تک لڑنے کا عہد کیا تھا۔ ’جو مرنے کے لیئے نکلے ہیں انہیں خوراک کی ضرورت نہیں‘۔

سوال: آپ نے کہا ہے کہ جہاد کا علم دِلّی میں لہرایا گیا اور مسجد اس کا مرکز تھی۔ دِلی میں اس ’اسلامی‘ تحریک کی کیا وجہ تھی؟
اس کی وجہ بھی وہی تھی جو سپاہیوں کی بغاوت کی تھی یعنی برطانوی حکومت کے بارے میں شک کہ وہ عیسائی قوانین، نظام تعلیم اور مذہبی رسومات نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ وہ قرآن کا حکم مان رہے ہیں کہ دارالحرب کو دارالاسلام میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

سوال: کیا آپ کے خیال میں ہندوستانی مؤرخوں نے بغاوت پر تحقیق کرتے ہوئے جان بوجھ کر شواہد کو نظر انداز کیا؟
نہیں لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل آرکائوز میں ان دستاویزات کی پہلے کسی نے صحیح طرح چھان بین نہیں کی۔ میرے جذبات اس ہندوستانی مؤرخ جیسے ہیں جسے پیرس جا کر یہ معلوم ہوا کہ انقلاب فرانس کے بارے میں فرانس کی قومی لائبریری میں ایسا ریکارڈ موجود ہے جسے کبھی دیکھا نہیں گیا۔ میرے خیال میں اردو کی شکستہ تحریر اور مغلیہ دور کے آخری وقت میں تحریر کی عجیب روایات نے بہت سے محققین کی حوصلہ شکنی کی ہوگی۔ میں مشکل کو سر کرنے میں محمود کی صلاحیت اور مستقل مزاجی کا شکر گزرا ہوں۔

سوال: آپ نے اپنے مذہبی جنگ کے نظریئے کے حق میں کن شواہد کا مطالعہ کیا؟ یہ چار سالہ منصوبہ تھا۔ نیشنل آرکائیو کے علاوہ لندن کی انڈیا آفس لائبریری، رنگون کے نیشنل آرمی میوزیم اور خاص طور پر لاہور میں پنجاب آرکائوز میں قابل ذکر مواد ہاتھ آیا۔میں نے بغاوت کے دو ایسے طویل اور قابل اعتبار احوال کا بھی حوالہ دیا ہے جن کا پہلے کبھی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا۔ ان میں سب سے زیادہ دلچسپ بہادر شاہ ظفر کے ایک اہلکار ظاہر دہلوی کی ’داستان غدر‘ بھی شامل ہے۔ میں بہت سی نئی چیزیں دریافت کرنے میں اس لیئے کامیاب ہوا کیونکہ حیران کن طور پر دِلی میں اٹھارہ سو ستاون کے بارے میں بہت کم سنجیدہ کام ہوا ہے۔

سوال: اس تحقیق کے بعد کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اگلے سال ہندوستان میں اِس بغاوت کی یاد میں ہونے والی تقریبات ایک لحاظ سے غیر ضروری ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اٹھارہ سو ستاون ہندوستان کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ اس نے سب کچھ بدل دیا۔ تحریک نے جو تباہ کن شکل اختیار کی اس سے مغلیہ دور کے جاگیرداری نظام کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ جب ستمبر اٹھارہ سو ستاون کو دِلّی فتح ہوا تو یہ صرف ایک شہر یا ظفر کا دربار نہیں تھا جو ختم ہوا بلکہ مغلوں کے سیاسی اور ثقافتی نظام کی خود اعتمادی اور رعب ختم ہو گیا تھا۔

اٹھارہ سو ستاون میں دِلی میں برطانوی کامیابی اور انیس سو سینتالیس میں ہندوستان سے برطانوی انخلاء میں صرف نوّے سال کا فرق ہے۔اٹھارہ سو ستاون میں برطانوی زیادتیوں کی یاد نے ہندوستانی قوم پرستی کو پنپنے میں مدد دی ہو گی لیکن ہندوستان کی آزادی کی طرف پیش رفت میں نہ ہی مغلیہ سلطنت کے ورثا اور نہ ہی جاگیرداروں کا کوئی کردار تھا بلکہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی قیادت انگریز زدہ اور تعلیم یافتہ کولونیل سروس طبقے نے کی جو اٹھارہ سو ستاون کے بعد انگریزی سکولوں سے نکلے تھے اور جنہوں نے عام طور پر مغربی طرز پر سیاسی جماعتوں، ہڑتالوں اور احتجاجی جلوسوں کا سہارا لیا۔ اگر اٹھارہ سو ستاون نہ ہوتا تو جدید ہندوستانی تاریخ شاید کوئی اور رخ اختیار کرتی۔