Monday, 21 August, 2006, 16:05 GMT 21:05 PST
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے لبنان کے لیئے طویل مدتی امداد کو دو سو تیس ملین ڈالر تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
بش نے واشنگٹن میں اخباری کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ یہ امداد لبنان کی تعمیر نو کے لیئے ہوگی۔ انہوں نے بااختیار بین الاالقوامی امن فورس کی جلد تعیناتی پر بھی زور دیا تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد ہوسکے۔
توقع تھی کہ فرانس اس فورس کے لیئے زیادہ فوجی فراہم کرے گا مگر اس نے ابھی تک صرف دو سو سپاہیوں کا اعلان کیا ہے۔ پیرس کا کہنا ہے کہ مزید فوجی تعینات کرنے سے قبل اس فورس کا مینڈیٹ واضع ہونا چاہیے۔
ادھر کویت کے امیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ تنازعے سے ظاہر ہوگیا ہے کہ اسرائیل عرب دنیا کو طاقت کی بنیاد پر تابے نہیں بنا سکتا۔ شیخ حامد بن خلیفہ الثانی نے جوکہ آج کل بیروت کے دورے پر ہیں کہا کہ جنگ کے خاتمے نے امن کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل سے لبنان کا فضائی اور سمندری محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق عالمی ادارے کے پندرہ ہزار فوجی جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔ امریکہ اس فورس کے لیئے فوجی نہیں دے گا تاہم اس نے دیگر صورتوں میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔