Wednesday, 16 August, 2006, 12:50 GMT 17:50 PST
برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نظام متعارف کروانے کے بارے میں سوچ رہی ہے جس کے تحت مسافروں کی مذہبی اور نسلی بنیادوں پر معمول سے زیادہ سختی سے چیکنگ ہوگی۔
اس نظام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے لندن میں طیاروں کو تباہ کرنے کے مبینہ منصوبے کے انکشاف کے بعد ہوائی اڈوں پر تمام مسافروں کی چیکنگ پر لگنے والا وقت بچ سکے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ اس نظام سے متاثر ہونے والا گروہ ناراض ہو جائے گا، اس کی بجائے ٹیکنالوجی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے‘۔
میٹروپولیٹن پولیس کے سابق سربراہ لارڈ سٹیونز کہتے ہیں کہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر مسافروں کی درجہ بندی سے ہوائی اڈوں پر وقت بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں سوٹ پہننے چھ فٹ چار انچ کا باسٹھ سالہ سفید فام شخص ہوں اور اکثر ہوائی سفر کرتا ہوں لیکن کیا میں خود کش بمبار کے خاکے پر پورا اترتا ہوں۔‘ اسی طرح ’کیا تین بچوں کی ایک نوجوان ماں، ہم جنس پرست جوڑا، رگبی کی ٹیم یا ادھیڑ عمر کا کوئی کاروباری شخص اس خاکے پر پورا اترتا ہے‘۔
لیکن ان کے اس بیان پر مسلم کونسل آف بریٹن نے سخت تنقید کی ہے کہ ’نوجوان مسلمان مردوں‘ کی سخت چیکنگ ہونی چاہیے۔
ہوا بازی کی صنعت کے بارے میں جریدے ایوی ایشن رویو کے مدیر کرس ییٹس کا کہنا ہے کہ نسلی یا مذہبی بنیادوں پر مسافروں کے ساتھ چیکنگ کے وقت امتیازی سلوک سے آسانی سے بچاجا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اس طریقۂ کار کا توڑ ڈھونڈ لیں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’لبرٹی‘ کا بھی مؤقف ہے کہ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے مسئلے کا حل جاسوسی ہی ہے۔ لبرٹی کے منتظم شامی چکربتی نے کہا کہ ’ہمارا سامنا انتہائی خوفناک دہشت گردوں سے ہے جو بچوں، مختلف مذاہب اور نسل کے لوگوں، مذہب تبدیل کرنے والوں اور ایسے لوگوں کو جنہیں ڈرایا دھمکایا جا سکے استعمال کرنے سے نہیں چوکیں گے‘۔