Saturday, 12 August, 2006, 16:17 GMT 21:17 PST
اسد علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
مشرقی لندن میں سنیچر کو والتھم سٹؤ کے بس سٹاپ سے نکلتے ہی پہلی نظر ایک سٹال پر پڑی جس پر برطانیہ کی سوشلست پارٹی کے پوسٹر لگے ہوئے تھے اور تین چار سفید فام لڑکے لڑکیاں امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسیوں کے خلاف پرچار کر رہے تھے اور لوگوں سے دستخط حاصل کر رہے تھے۔
تھوڑے فاصلے پر ایک بڑا سا بورڈ تھا جس پر ایک ہزار لوگوں کی تصاویر لگی ہوئی تھیں جو والتھم سٹؤ کے رہائشی ہیں۔ یہ تصاویر ایک نمائش کے سلسلے میں لگی ہوئی تھیں جس کا عنوان تھا ’والتھم سٹؤ کے ایک ہزار چہرے‘۔
فوٹوگرافر ہال ساتھرویٹ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ والتھم سٹؤ کی اصل تصویر ہے نہ وہ جو شاید حالیہ واقعات کے بعد کچھ لوگوں کے ذہنوں میں بن رہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر لوگوں نے رضاکارانہ طور پر کھنچوائیں اور ان میں ہر مذہب رنگ اور نسل کے لوگ شامل ہیں۔
ساتھرویٹ نے بتایا کہ وہ آٹھ سال سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو سال کے لیئے آسٹریلیا گئے تھے لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ برطانیہ میں ثقافتی اعتبار سے زیادہ تنوع ہے اور لوگ آپس میں زیادہ گھلے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مسائل ضرور ہیں لیکن اس نمائش کی تکمیل اور اب اسے جس طرح لوگ دیکھنے آ رہے ہیں اس میں امید کی ایک کرن ہے۔
عرفان نے لندن میں ہوائی جہازوں کو تباہ کرنے کے مبینہ منصوبے کے بارے میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں سیاستدان جرائم اور جرائم کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کی بات کرتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں جرائم کی وجوہات ’برطانوی خارجہ پالیسی اور یہاں کے مسلمان رہنما ہیں جو نوجوان نسل سے بالکل کٹے ہوئے ہیں‘۔
عرفان نے کہا کہ وزیر اعظم بلیئر برطانوی مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ’بے سمت شکایات‘ کی اصطلاح استعمال کر چکے ہیں۔ ’اس طرح کی زبان بالکل مددگار ثابت نہیں ہوتی‘۔
مبینہ منصوبے کے سلسلے میں والتھم سٹؤ میں بھی گرفتاریاں عمل میں آئیں ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں پاکستانی آباد ہیں۔