Sunday, 04 June, 2006, 05:05 GMT 10:05 PST
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں جھگڑے کو ختم کرنے کے لیئے ان تجاویز پر غور کرنے کے لیئے تیار ہے جو سرکردہ عالمی طاقتوں نے پیش کی ہیں۔ لیکن انہوں نے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کے اختتام کو خارج از امکان قرار دیا۔
ایران کے صدر نے یہ بات آیت اللہ خمینی کی سترویں برسی کے موقع پر ان کے مزار پر تقریر کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال اور پر امن مقاصد کے لیئے جوہری ایندھن کی پیداوار ایران کا قانونی حق ہے۔ ’اور ہم اپنے حقوق پر کسی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
صدر احمدی نژاد کی تقریر سے چند روز پہلے چھ سرکردہ عالمی طاقتوں نے جن میں روس اور امریکہ بھی شامل ہیں، ایران کو یورینیم کی افزودگی کا پروگرام روکنے پر آمادہ کرنے کے لیئے تجاویز پیش کی تھیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ خاویر سولانا ان تجاویز پر بحث کے لیے ایران جانے والے ہیں۔
احمدی نژاد نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ان سے ٹیلیفون پر ان تجاویز پر غور کرنے کے لیئے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رہنما یہ تجاویز لے کر ایران آ رہے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن نے کہا کہ ایک ایسے رہنما کے لیئے جو اکثر جارحانہ انداز اپناتے ہیں یہ بیان قدرے نرم اور محتاط تھا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق خاویر سولانا آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں ایران پہنچ جائیں گے۔
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کی طرف سے تیار کی جانے والی تجاویز ابھی منظر عام پر نہیں آئیں۔
توقع ہے کہ خاویر سولانا جمعرات کو ویانا میں یہ تجاویز دنیا کے سامنے رکھیں گے۔