http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 03 June, 2006, 16:42 GMT 21:42 PST

عراق نے امریکی رپورٹ رد کردی

عراقی حکومت نے ملج کے جنوبی شہر اسحاق میں گیارہ شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی رپورٹ رد کردی ہے جس میں امریکی فوجیوں کو بے قصور قرار دیا گیا تھا۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے ترجمان نےکہا ہے کہ وہ رپورٹ جس میں امریکی فوجیوں کو بری الذمہ قرار دیا گیا ہے، غیر منصفانہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت ان ہلاکتوں پر معافی اور ہرجانے کا مطالبہ کرے گی۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع کے اہلکاروں نے کہا تھا کہ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اسحاقی میں شہریوں کی ہلاکت میں امریکی فوجیوں کا قصور نہیں تھا۔

عراقی رپورٹ میں امریکی فوجیوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے مارچ میں ایک چھاپے کے دوران جان بوجھ کر گیارہ شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ بغداد کے شمال میں اسحاقی میں ہونے والا یہ واقعہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں امریکی فوجیوں پر مظالم کے الزامات گئے ہیں۔

اسحاقی کے واقعات کی ویڈیو

نوری المالکی امریکیوں پر برہم

ایک تازہ ترین واقعے میں حدیثہ میں مبینہ قتل عام کے بعد امریکی فوجیوں کے لیے اخلاقی تربیت کے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔ حدیثہ میں امریکی میرین نے بم حملے کے بعد مبینہ طور پر چوبیس عراقی شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی بھی ’اتحادی فوج‘ پر تنقید کی ہے کہ شہریوں پر حملے کرنے کا ان کا معمول بن گیا ہے۔

امریکی فوجی حکام نے جمعہ کے روز بی بی سی کو بتایا کہ اسحاقی کے واقعہ کی تفتیش کے دوران امریکی فوجیوں کی طرف سے کسی زیادتی کا ثبوت نہیں ملا۔ حکام نے کہا کہ فوجیوں نے ایک گھر میں داخلے کی کوشش کے دوران فائرنگ کے جواب میں قواعد کے مطابق کارروائی کی تھی۔ تفتیش کی مکمل رپورٹ ابھی جاری نہیں کی گئی۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعے میں بھاری گولہ باری کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پینٹاگون کی طرف سے تفتیش کے نتائج سامنے آنے سے ایک روز قبل بی بی سی نے ایک وڈیو فِلم جاری کی تھی جس میں کئی بڑوں اور بچوں کی لاشیں دکھائی گئی تھیں۔ بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار جان سمپسن کے مطابق یہ لوگ واضح طور پر گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔ یہ فِلم امریکی فوج کی مخالف ایک سنی تنظیم سے حاصل کی گئی تھیں۔