http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 04 February, 2006, 19:38 GMT 00:38 PST

اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے خصوصی معائنہ کاروں سے فوری طور پر تعاون ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اس بارے میں صدر احمدی نژاد کے آئی اے ای اے کو لکھے ایک خط کو ملک کے سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔

انہوں نے اس خط میں لکھا ہے کہ ایران کا تعاون اب جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور سیف گارڈز کے معاہدے کے طے شدہ فریم کے اندر ہی ہوگا۔

ان کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کاجوہری معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے۔

اس سے قبل ایرانی حکام نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل میں جوہری معاملہ پیش کیے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران یورنیم کی افزودگی بھرپور طریقے سے بحال کردے گا۔

روس اور امریکہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھے تاکہ اس معاملے کا سفارتی حل نکالا جا سکے۔

ایرانی، جوہری پروگرام کے حق میں

اس سے قبل آئی اے ای اے کے بورڈ کے پینتیس ارکان میں سے ستائیس نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تین ممالک نے اس معاملہ کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے خلاف ووٹ دیا جبکہ پانچ ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ کے لیے ایرانی وفد کے سربراہ نے اس فیصلے پر رد عمل میں کہا کہ ایران فوری طور پر یورانیم کی افزودگی بھرپور طریقے سے شروع کردے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک سیاسی چال ہے۔

یہ فیصلہ ویانا میں اقوام متحدہ کے ارکان کے طویل بحث مباحثے اور سفارتکاری کے بعد کیا گیا اور اس کے نتیجے کے طور پر ایران کو اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایران کے مسئلے کا کیا حل؟

اس فیصلے سے ایران کے جوہری تنازعہ میں تیزی آنے کا خدشہ بھی ہے۔

جن ممالک نے ایران کے خلاف رائے دہی کی ان میں روس، چین، امریکہ اور یورپی ممالک شامل ہیں، جبکہ اس قرار داد کے خلاف ووٹ دینے والے تین ممالک شام، وینزویلا اور کیوبا ہیں۔

تہران نے کہا تھا کہ اگر اس کا معاملہ سلامتی کونسل میں بھیجا گیا تو وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کے سلسلے میں تمام تر تعاون ترک کردے گا اور اس کے بعد کسی بھی سمجھوتے کے لیے رستہ بند ہوجائے گا۔

جمعہ کی رائے دہی کے لیے پہلے ہی سے منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم زیادہ سے زیادہ ممالک کو رائے دہی میں شامل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے اس میں کچھ تاخیر کی گئی تاکہ ایران کو سخت سے سخت پیغام بھیجا جاسکے۔

ایران کا موقف

تہران کا ہمیشہ سے ہی یہ موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیے ہے۔