Saturday, 04 February, 2006, 09:30 GMT 14:30 PST
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے یورپی اخبارات میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے معاملے میں تحمل کی اپیل کی ہے۔
کوفی عنان نے کہا کہ وہ مسلمانوں کی تکلیف میں برابر کے شریک ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ڈنمارک کے اخبار کی معذرت قبول کر لینی چاہیے۔
کوفی عنان نے کہا کہ انہیں اس پورے معاملے سے تکلیف ہوئی ہے اور وہ اس بارے میں پریشان ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ کوئی اس مشکل صورتحال کو مزید بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ وہ رائے کے اظہار کی آزادی کا پاس کرتے ہیں لیکن اس آزادی کا استعمال ذمہ داری اور انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ادھر رومن کیتھولک چرچ نے بھی کارٹون شائع کرنے کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ ویٹیکن کے ایک ترجمان جوکن ناوارو کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار کا مطلب کسی کے مذہبی عقائد و جذبات مجروح کرنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پر امن طور پر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ قومیں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔
پہلی بار کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے مدیر فلیمنگ روز اور سکینڈیونیویا میں مسلمان کے مظاہروں کی قیادت کرنے والے احمد ابو لبن نے بی بی سی کے ہارڈ ٹاک پروگرام میں اکٹھےشرکت کی۔ روز کا کہنا تھا کہ ڈنمارک میں طنز و مزاح کی روایت ہے جس سے مسیح سے لے کر شاہی خاندان تک کوئی مستثنیٰ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خاکے شائع کر کے وہ ڈنمارک کے مسلمانوں کو بتا رہے تھے کہ ہمارا ان کے ساتھ وہی رویہ ہے جو سب کے ساتھ۔
لبن نے اعتراف کیا کہ پر تشدد مظاہروں سے اسلام کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سکینڈینیویا میں تشدد کو پھیلنے سے روکنے کےلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
آئرلینڈ میں متنازعہ خاکوں کو شائع کرنے والے اخبار ڈیلی سٹار نے مسلمانوں کے مظاہروں کو انتہائی غیر ضروری اور نفرت آمیز کہا ہے۔