امریکہ نے وینزویلا کے سینیئر سفارت کار کو اٹہتر گھنٹے کے اندر ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
امریکہ نے یہ اقدام ایک روز پہلے وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز کی جانب سے امریکی نیول اتاشی کو ملک سے نکل جانے کا حکم کے بعد کیا ہے۔
وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کہا تھا کہ امریکی اہلکار جاسوسی میں ملوث تھا اور وہ وینزویلا کے فوجی راز پینٹاگون میں پہنچا رہا تھا۔
قوم سے خطاب کے دوران ہوگو شاویز نے اعلان کیا تھا کہ شاید اور بھی امریکی سفارت کاروں کو ملک سے نکالا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا وینزیلا کے امریکہ میں سفیر کے چیف آف سٹاف کوچار روز کے اندر ملک سے نکل جانے کے حکم دیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا سفارت کار کو ملک سے نکل جانے کا حکم وینزویلا کی جانب سے اسی طرح کے حکم کے جواب میں کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ عام طور جوابی کارروائی کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا لیکن اس معاملے اس نے جواباً وینزویلا کے سفارت کار کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سفارت کاروں کو نکالے جانے کے فیصلے سے وینزویلا اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا ملی ہے۔
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز کا ایڈولف ہٹلر سے موزانہ کیا اور کہ ہوگو شاویز بھی بھی ہٹلر کی طرح قانونی پر منتخب ہوئے تھے لیکن بعد اس نے اپنی آمریت قائم کرلی ہے۔
ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا کہ ہوگو شاویز اور کچھ دوسرے ملکوں کے رہنما فیڈرل کاسترو کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ ایک بنیادی نقظے کو سھمجنے سے قاصر ہیں۔ ڈونلڈ رمز فیلڈ نے بینادی نقطے کی وضاحت نہیں کی۔