Sunday, 29 January, 2006, 02:40 GMT 07:40 PST
حماس کےعسکری شعبے کے سیاسی رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد نئی فلسطینی فوج قائم کر سکتے ہیں۔
مشعل نے جو سوریا(شام) میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کہا ہے کہ نئی فوج میں ان کی جماعت کے عسکری شعبے کے ارکان شامل ہوں گے اور وہ اپنے لوگوں کو جارحیت سے بچائے گی۔
مشعل کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب غیر ملکی طاقتیں حماس سے ’تشدد‘ ترک کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔
خالد مشعل نے کہا ہے کہ حماس کا غیر مسلح ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب تک ہمارے علاقے قبضے میں ہیں مزاحمت ہمارا حق ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ حماس فلسطینیوں کے اتفاق رائے سے ان کے تمام گروہوں کے وسائل کو یکجا کر کے ایک ایسی فوج بنانا چاہتی ہے جیسی کسی آزاد ریاست کی ہوتی ہے جو ’ہمارے لوگوں کو جارحیت سے محفوظ رکھ سکے‘۔
اس کے ساتھ مشعل نے کہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا اس وقت تک پاس کرے گی جب تک ایسا کرنا ان کے لوگوں کے مفاد میں ہوگا۔
اسرائیل نے کہا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو اس وقت تک جائز نشانہ سمجھیں گے جب تک وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کر لیتے اور جارحیت ترک نہیں کرتے۔
دریں اثناء فتح جماعت کے رہنماؤں نے حماس کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی سیکیورٹی دستوں میں مداخلت نہ کریں۔ زیادہ تر ایسے دستے فتح سے وابستہ ہیں۔
فتح کے حامیوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور الاقصیٰ شہدا بریگیڈ نے حماس کی کامیابی کے بعد پورے غزہ اور مغربی پٹی میں مظاہرے کیے ہیں۔
سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پولیس والوں کے قتل میں ملوث حماس کے ارکان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
مشعل نے کہا ہے کہ انہوں نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس سے رابطہ کیا ہے اور وہ فتح کے ساتھ مِل کر کام کرنا چاہتے ہیں جبکہ فتح کے بہت سے اعلیٰ ارکان حماس کے ساتھ اتحاد نہیں چاہتے۔