Monday, 19 December, 2005, 17:01 GMT 22:01 PST
امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ ٹیلی فون سننے اور ای میلز پڑھنے کی متنازعہ پالیسی جاری رہے گی کیونکہ امریکہ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نےایک بار پھر اس پالیسی کا دفاع کیا ہے جس کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے اندر ان لوگوں کی ٹیلی فون کالوں اور ای میلوں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دی گئی تھی کہ جن کے بارے میں شبہ تھا کہ ان کا تعلق دہشت گرد تنظمیوں سے ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں اس خبر کے اخبارات تک پہنچنے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ’وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی اجازت سے قبل اس قسم کے نگرانی پر مبنی آپریشن کا حکم دے سکیں‘۔
انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد، چار سال قبل کانگریس نے انہیں دہشت گردی کی جنگ کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھانے کی اجازت دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ متنازعہ پروگرام بہت کامیاب ثابت ہوا اور جب تک امریکی عوام کےدشمن موجود ہیں یہ پروگرام جاری رہے گا۔ انہوں نے اس خفیہ پروگرام کے افشاء ہونے کو باعث شرم قرار دیا۔
صدر بش نے کانگریس سے کہا کہ وہ امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف حب الوطنی کے قانون یا پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کرے۔