Friday, 16 December, 2005, 20:36 GMT 01:36 PST
امریکہ میں صدر بش کے سیکورٹی اہلکاروں کو ملک کےاندر لوگوں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دینے کے الزام نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کو اس بات کی اجازت دی گئی تھی کہ بغیر کسی وارنٹ کے بڑی تعداد میں لوگوں کی جاسوسی کرے۔
امریکہ میں این ایس اے کو عام طور پر لوگوں کی جاسوسی کرنے کی ممانعت ہے۔
اس سے قبل امریکی سرزمین پر نگرانی صرف غیر ملکی سفارت خانوں تک محدود تھی۔
ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جان میکنن نے اس بارے میں وضاحت طلب کر لی ہے جبکہ سینٹ کی جیوڈشری کمیٹی کے چئر مین سینیٹر ارلن سپیکٹر نے اسے’نامناسب‘ قرار دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر بش نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد ایک ایسے خفیہ صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے ایجنسی عدالت کی اجازت کے بغیر سینکڑوں لوگوں کی بین الاقوامی ٹیلی فون کالوں اور ای میلز کو ٹریک کر سکے گی۔
تنقید کرنے والوں سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اس قسم کی نگرانی نے قانونی تقاضوں کی قانونی حد تو پار نہیں کر لی ہے؟
امریکی قانون کا تقاضہ ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو اس کام کے لیے ایک خفیہ عدالت سے اجازت لینی ہوتی ہے جسے فارن انٹیلیجنس سرویلینس کورٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے افراد نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی تصدیق کرنے یا اس کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس سے جب ٹی وی کے ایک پروگرام میں اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’صدر نے ہر قدم قانون کے مطابق اٹھایا۔ انہوں نے امریکیوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنی آئینی حدود اور قانون دونوں کا خیال رکھا‘۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو مشکل وقت آن پڑا ہے یہاں تک کہ اپنے ری پبلکن حامیوں کو بھی انہیں یہ بات باور کروانے میں مشکل پیش آرہی ہے کہ دہشت گردی کی جنگ کے نام پہ اٹھائے جانے والے اقدامات درست ہیں۔