http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 08 December, 2005, 12:58 GMT 17:58 PST

رائس کی وضاحت سےیورپ مطمئن

یورپی یونین اور نیٹو کے حکام نے کہا ہے کہ وہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی سی آئی اے کی یورپ میں مبینہ خفیہ کارروائیوں سے متعلق وضاحت سے مطمئن ہیں۔

ان حکام نے برسلز میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے کونڈولیزا رائس سے ملاقات بھی کی۔

رائس نے زور دے کر کہا کہ امریکی اہلکاروں کو اپنے ملک کے اندر یا باہر تفتیش کے دوران تشدد کی اجازت نہیں ہے۔

نیٹو اور یورپی یونین کے حکام نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ کا بین الاقوامی قوانین کی تشریح کے بارے میں اپنے اتحادیوں سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹائنمر نے اس ملاقات کہا کہ ’یہ ملاقات ہم سب کے لیے اطمینان بخش تھی‘۔

کونڈولیزا رائس کو اپنے یورپ کے دورے کے دوران مسلسل ان الزامات کا جواب دینا پڑا کہ امریکہ نے عالمی دہشت گردی کے ملزمان کو خفیہ طور پر یورپ میں ٹھہرایااور انہیں امریکہ پہنچانے کے لیے وہاں کے ہوائی اڈے استعمال کیے۔

رائس نے بدھ کو یورپی ممالک کے خدشات کا سد باب کرنے کی کوشش کی اور زوور دے کر کہا کہ امریکی اہلکار ملک کے اندر اور باہر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پابند ہیں۔

بُش انتظامیہ اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ اس کے اہلکار امریکہ سے باہر غیر انسانی، ظالمانہ اور ہتک آمیز رویوں کے خلاف قرارداد کے پابند نہیں ہیں۔

دریں اثناء امریکہ میں کانگریس کے ان ارکان نے رائس کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جو رپبلکن جماعت کے سینیٹر جامکین کی طرف سے تجویز کیے گئے قانون کی حمیت کر رہے ہیں جس کے تحت ’دہشتگردی‘ کے غیر ملکی ملزمان کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں طریقہ کار میں تبدلی لائی جائے گی۔

کانگریس کے ارکان نے رائس کے بیان کے بعد کہا کہ امریکی انتظامیہ نےبالآخر تسلیم کر لیا کہ سینیٹر کا موقف درست ہے۔

وائٹ ہاؤس نے سی آئی اے پر تفتیش کے نئے ضوابط کے اطلاق کی مخالت کی ہے۔