Wednesday, 07 December, 2005, 06:48 GMT 11:48 PST
القاعدہ تنطیم کے نائب رہنما ایمن الظواھری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں اور وہ مغرب کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔
الظواھری کا یہ ویڈیو پیغام پہلے انٹرنیٹ پر شائع ہوا تھا جس کے بعد اس کو عربی ٹیلی وژن چینل الجزیرہ پر نشر کیا گیا ۔
ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ اس کی ریکارڈنگ کس جگہ کی گئی ہے۔ ان تصاویر میں سفید دیواریں دکھائی دے رہی ہیں۔
اس ویڈیو پیغام میں الظواھری نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کو مزید وسیع اور مظبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تیل کے تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہیے۔
اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ بیشتر ایسی تنصیبات مسلمان ممالک میں ہیں لیکن اس تیل کا منافع ’اسلام دشمن عناصر‘ کو جاتا ہے۔
عراق کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں امریکی اور غیر ملکی افواج کو روزانہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں قائم حکومت امریکیوں کی منت کر رہی ہے کہ وہ وہاں سے واپس نہ جائیں کیونکہ بقول الظواھری ’ان کو معلوم ہے کہ جس دن امریکی عراق سے نکل گئے اس دن انکا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔‘
ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کے صحتیاب ہونے کے بارے میں کہا کہ یہ خبر ’تمام مسلمانوں کے لیے باعث خوشی ہوگی‘۔
ڈاکٹر ایمن الظواھری کا تعلق مصر سے ہے اور وہ پیشے سے آنکھوں کے سپیشلسٹ تھے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملے الظواھری کے ہی منصوبہ بندی سے ہوئے تھے۔
سنہ دو ہزار ایک میں امریکہ نے بائیس انتہائی مطلوب افراد کی فہرست جب جاری کی تھی تو الظواہری کا نام اسامہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا اور ان کی سر کی قیمت پچیں ملین ڈالر لگائی گئی تھی۔