http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 29 November, 2005, 11:38 GMT 16:38 PST

ہم جنسیت پر پابندی برقرار

آخر کار ویٹیکن نے پادریوں میں ہم جنس پرستی کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم جنس پرست اور ’ ہم جنس پرستی کے کلچر کے حامی‘ پادری نہیں بن سکتے۔

رپورٹ میں تاہم ویٹیکن نے ہم جنس پرستی کو ایک ’رویہ‘ نہیں بلکہ ایک ’رجحان‘ قرار دیتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ جو افراد اپنے اس رجحان پر قابو پا چکے ہیں وہ پادری بننے کی تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔

نئے قانون کے مطابق ڈیکن یا منسٹر بننے اور ’اس وقتی کیفیت پر قابو پانے‘ کے درمیان تین سال کا وقفہ ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ جنسی رجحان کے قطع نظر کیتھولک پادری بننے لیے آپ کو یہ حلف لینا پڑتا ہے کہ آپ جنس سے عاری زندگی گزاریں گے۔

ویٹیکن کی رپورٹ کا ایک اور قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں موجودہ پادریوں کے بارے میں کوئی ذکر نہیں اور صرف مستقبل میں پادری بننے والوں کے بارے میں ہدایات اور قوانین دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر گولڈ کا کہنا ہے کہ کیتولک مذہب کے کچھ ماہرین کے خیال میں مذکورہ رپورٹ میں مہیا کی گئی وضاحتیں کافی نہیں ہیں۔

مشہور سکالر فادر تھامس ریس کے مطابق رپورٹ میں ’رویہ‘ اور ’رجحان‘ کا جو ابہام ہے اسے پڑھ کر تو لوگ سر کھجاتے رہ جائیں گے۔

اٹھارہ صفحات پر مشتمل کو منظر عام پر لانے کے معاملے میں ویٹیکن کسی جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کیا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اٹلی کی ایک کیتتولک ویب سائٹ نے یہ رپورٹ خفیہ طور پر حاصل کر کےگزشتہ ہفتے شائع کر دی۔

ناقدین اس رپورٹ کے آنے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم جنس پادریوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنے جنسی رویے کے بارے میں جھوٹ بولیں اور چرچ سے متعلق عہدوں پر فائز رہیں لیکن اس رپورٹ میں پادری بننے کے امیدواروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سچ بولیں۔

رپورٹ کے مطابق ’ یہ نہایت بددیانتی ہوگی کہ پادری بننے کا کوئی امیدوار اپنے ہم جنس ہونے کو چھپائے۔‘

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ رپورٹ میں دیے گئے قوانین کے اطلاق سے مغربی ممالک میں پادریوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ کیتولک پادریوں کے بارے میں ہدایات پر نظرثانی کے احکامات پوپ جان پال یا پاپائے روم دوئم نے اس وقت دیے تھے جب امریکی میں کئی افراد نے الزام لگایا تھا کہ ان کی نوعمری نے پادریوں نے ان سے جنسی زیادتی کی تھی۔