Wednesday, 28 September, 2005, 14:47 GMT 19:47 PST
افغانستان میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک خودکش حملہ آور نے ایک فوجی اڈے کے سامنے خود کو دھماکے سےاڑا دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مشتبہ حملہ آور سمیت بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
سکیورٹی کے ایک افسر نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل اس جگہ کھڑی کی جہاں افغان فوجی بسوں کا انتظار کررہے تھے۔
افغانستان میں خودکش حملوں کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن کابل میں اس طرح کے واقعات بہت کم ہوئے ہیں۔
آخری بار خودکش بم حملہ مئی میں ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اٹھارہ اکتوبر کے پارلیمان کے انتخابات کے بعد بدھ کو ہونے والا یہ پہلا خود کش حملہ ہے۔
افغان صدر حامد کرزئی نے اس حملے میں نشانہ بننے والوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
وزات دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق چار بج کر تیس منٹ پر موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے کابل ملٹری ٹرینگ سینٹر کے سامنے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کےمطابق مرنے والوں میں زیادہ تر افغان فوجی ہیں۔
نیٹو کی امن فوج اور پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا جس کی وجہ سے شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کابل جلال آباد روڈ پر دھماکے کے بعد بدنظمی پھیل گئی۔ اس حملے میں فوج کی تین گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
قبل ازیں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ
انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ جن کے مطابق القاعدہ کا خود کش اسکواڈ ’فدایان اسلام‘ ملک میں موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ حملہ آور عرب ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ایک سینئر سکیورٹی افسر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کابل جلال آباد روڈ پرواقع آرمی ٹرینٹگ سینٹر پر اس بم حملے میں حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ اس نےاپنی موٹر سائیکل افغان نیشنل آرمی کی ایک بس سے ٹکرا دی جس پر فوجی سوار تھے۔