Thursday, 25 August, 2005, 04:13 GMT 09:13 PST
بغداد میں ایک خودکش حملے کے بعد شروع ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں سترہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اس خود کش حملے کا نشانہ پولیس تھی۔
خود کش حملہ ہوتے ہی چالیس کے قریب نقاب پوشوں نے رائفلوں سے فائرنگ کرنا اور گرینیڈ داغنا شروع کر دیئے۔
عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں پولیس اور شہریوں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
بغداد میں پولیس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس افسر بھی شامل ہیں۔
پولیس نے گزشتہ چند ماہ میں کی سب سے خوفناک لڑائی پر قابو پانے کے لیے مغربی بغداد کا ایک علاقہ آمد و رفت کے لیے بند کر دیا۔
عراق میں نئے آئین پر اتفاقِ رائے کے لیے مختلف گروہوں میں مذاکرات جاری ہیں اور ملک میں سیکیورٹی حکام انتہائی چوکس کیے جا چکے ہیں۔
تشدد کے واقعات
٭شیعہ رہنما مقتدی الصدر کا نجف میں شعیہ مخالفین سے جھگڑا ہو گیا۔ یہ جھگڑا مقتدیٰ الصدر کی طرف سے حضرت علی کے روضے کے قریب اپنا دفتر دوبارہ کھولنے کی کوشش کے بعد شروع ہوا۔
٭الصدر کے حامی جو مجوزہ آئین کے خلاف ہیں سنی مظاہرین کے احتجاج میں شامل ہو گئے۔
٭ایران کے شہر مشہد سے زیارت کر کے لوٹنے والے شیعہ زائرین پر بعقوبہ کے راستے میں حملہ ہو گیا۔