Tuesday, 23 August, 2005, 03:23 GMT 08:23 PST
کینیڈا نے قطب شمالی کے قریب ایک جزیرے پر اپنا حق جتانے کے لیے دو جنگی جہاز روانہ کر رہا ہے۔
کینیڈا اور ڈینمارک میں چھوٹے سے غیر آباد ہانس نامی جزیرے کی ملکیت کا جھگڑا ہے۔ یہ جزیرہ کینیڈا اور گرین لینڈ کے درمیان واقع ہے۔ اس جزیرے کا رقبہ ایک مربعہ کلومیٹر ہے۔
گرین لینڈ نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ جزیرے سے کینیڈا کا پرچم نہیں ہٹائے گا۔
کینیڈا تیس سال بعد اس جزیرے پر اپنی موجودگی قائم کرے گا۔
ماہرین کے مطابق کینیڈا کو خدشہ ہے کہ قطب شمالی کے گرد برف کے پگھلنے سے مختلف ممالک وہاں سمندر کے نیچے سے تیل اور دیگر معدنیات کی تلاش شروع کرنا چاہیں گے۔
سائنسدانوں کے مطابق ہانس جزیرے کے گرد تیل یا گیس کے ہونے کا امکان بہت کم ہے لیکن کینیڈا کو احساس ہے کہ اس نے قطب شمالی کے گرد اپنے علاقوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
اس کے علاوہ برف کے پگھلنے کی وجہ سے پہلی بار بحر اوقیانوس سے شمال مغربی راستے کے ذریعے بحر الکاہل پہنچنا ممکن ہو جائےگا۔
امریکہ نے کینیڈا کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس راستے عالمی گزرگاہ تصور کرتا ہے نہ کہ کینیڈا کی ملکیت۔
امریکہ، روس، ڈینمارک اور ناروے قطب شمالی کے گرد سمندر کی تہہ میں قدرتی وسائل پر حق جتاتے ہیں۔
کینیڈا کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے ماہرین بھی اس پیش رفت سے پریشان ہیں کیونکہ تیل اور گیس کی تلاش میں قطب شمالی کا قدرتی ماحول تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔