Thursday, 21 July, 2005, 15:23 GMT 20:23 PST
صدر جنرل مشرف نے کہا ہے کہ برطانیہ میں خود کش حملہ کرنے والے انسان کہلانے کے حقدار نہیں اور یہ کہ ان کا تعلق پاکستان سے جوڑنا درست نہیں ہے کیونکہ وہ پاکستانی شہری نہیں تھے۔
ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے خطاب کے دوران انہوں نے کہاخود کش حملہ آور برطانوی شہری تھے جن کی پیدائش، تعلیم اور پرورش برطانیہ میں ہوئی۔ تاہم ان کے والدین پاکستانی تھے۔
جنرل مشرف نے کہا کہ برطانیہ میں حزب التحریر اور المہاجرون جیسی تنظیمیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت باہمی تعاون کی ضرورت ہے نا کہ الزام تراشی کی۔
انہوں نے پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف چند انتظامی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر کوئی کالعدم تنظیم کسی نئے نام سے سامنے آتی ہے تو اس کے رہنما کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بغیر لائسنس کے ہتھیار رکھنے والے یا ہتھیار کی نمائش کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نفرت پھیلانے، تشدد پر اکسانے، اس طرح کے رسائل اور جرائد، اخبار، آڈیو یا وڈیو ٹیپ ریکارڈ کرانے، رکھنے، بانٹنے، لکھنے والے کے خلاف بھی سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ انتہا پسند تنظیموں یا کالعدم تنظیموں کے لیےچندہ جمع کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
صدر مشرف نے اعلان کیا کہ مسجدوں سے نفرتوں کے خطبات دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
صدر مشرف نے ان مدارس کا انتظام کرنے والوں سے جنہوں نے ابھی تک اپنے مدارس رجسٹر نہیں کراوئے آخری اپیل کی کہ وہ دسمبر دو ہزار پانچ تک مداراس کو رجسٹر کرا لیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں اور انتہا پسندوں کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے۔
صدر مشرف کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا تاکہ تمام مسائل کا منصفانہ حل تلاش کیا جا سکے۔
تفصیلات کچھ دیر میں