Saturday, 18 June, 2005, 02:37 GMT 07:37 PST
عربی زبان کے ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ نے القاعدہ کہ رہنما اور اسامہ بن لادن کے نائب سربراہ ایمن الظواہری سے منسوب کر کے ایک بیان نشر کیا ہے جس میں انہوں نے مسلم ممالک کو ’امریکی طرز کی اصلاحات‘ اپنانے سے منع کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی قانون کے تحت تبدیلی لانی چاہیے۔
ایمن الظواہری سے منسوب بیان میں تبدیلی کے لیے پر امن مظاہروں کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے گھروں سے قابض صلیبی فوجوں اور یہودیوں کو صرف سڑکوں پر مظاہروں اور تقریروں سے نہیں نکالا جا سکتا‘۔
’اصلاحات اور اسلامی ممالک سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء صرف خدا کی راہ میں لڑنے سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘
ویڈیو ٹیپ پیغام میں ایمن الظواہری نےفلسطینیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سیکولر انتخابات کے کھیل میں شریک نہ ہوں۔ انہوں نے مصر میں صدارتی انتخابات کے بارے میں ریفرینڈم کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے پر بھی تنقید کی۔
مصر میں خواتین آئین میں مجوزہ ترامیم کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔
انہوں نے پاکستان، مصر اور سعودی عرب کی حکومتوں پر مغرب نواز مؤقف اپنانے کی وجہ سے تنقید کی۔
ہمیشہ کی طرح اس بیان میں بھی الظواہری نے سفید پگڑی پہنی ہوئی تھی اور کے قریب ہی ایک کلاشنکوف رکھی تھی۔
اس سے قبل فروری میں ایمن الظواہری سے ایک بیان منسوب کیا گیا تھا۔ اسامہ بن لادن اور الظواہری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دونوں افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں روپوش ہیں۔