http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 21 May, 2005, 18:56 GMT 23:56 PST

عراق میں سنیوں کی مساجد بند

بغدادمیں سنیوں کے قتل کےمسلسل واقعات کے بعد تین روزہ احتجاج کے سلسلے میں علاقےکی سنی مساجد عبادت کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

حالیہ قدم اس وقت اٹھایاگیاہے جب عراق کی سنی آبادی اورشیعہ اکثریت کےمابین کھنچاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سنی علماء نےالزام لگایا ہے کہ قتل کےان
واقعات میں شیعوں کا بدر بریگیڈ نامی گروہ ملوث ہے۔

بدر بریگیڈ نےاس الزام کی تردیدکی ہے۔ اس بریگیڈ کا نئی عراقی حکومت میں شامل ایک اہم جما عت سےتعلق ہے۔

تقریًبا ایک ہزارممتازسنیوں نے بغدادمیں ہونے والے ایک اجلاس میں
اِن ہلاکتوں پرعراقی وزیرداخلہ بيان باقر صولاغ سے مستعفی ہونےکےساتھ ساتھ اس قتل عام اور قیدیوں پر ہونےوالے تشدد کا جائزہ لینےکےلیے ایک خودمختار تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا مطالبہ کیاہے۔

ایک خیال کے مطابق با غیوں نے گروہی فسادات کوفروغ د ینےکے لیے کئی مہینوں سےعام شیعوں کے ساتھ شیعہ علماء کوبھی کار بم دھماکوں سے نشانہ
بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چار روزقبل دوسنی علماء کی لاشیں ملیں تھیں۔

عراق کی ایک اکثریتی سیاسی پارٹی کے رہنما عبدالعزیزحکیم نےعراقیوں سے متحدرہنےکی اپیل کی ہے۔

بی بی سی کے ا یک نمائندے کے مطابق سنیوں اورشیعہ اکثریت کےمابین
تمام تر کوششوں کے باوجود اختلافات بڑھتےجا رہے ہں۔

کچھ حلقوں نےعراق میں ایک نئی خانہ جنگی کےخطرے کےخدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔