Friday, 13 May, 2005, 13:34 GMT 18:34 PST
پاکستان نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ اگر خلیج گونتامومیں قرآن کی بے حرمتی کے واقعات سچ ہیں تو ان کے ذمہ دار افراد کو سخت سزا دی جائے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مذکورہ واقعہ سے پوری دنیا میں غم وغصہ کی لہر دوڑ چکی ہے۔
خورشید قصوری، جو آسٹریلیا کے تین دن روزہ دورے پر ہیں، نے کہا ہےکہ قرآن کی بے حرمتی کی خبریں انتہائی افسوسناک ہیں۔
’ یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کوئی شخص اس قدر غیرانسانی حرکت کا مرتکب اور ذہنی پستگی کا شکار ہو سکتا ہے کہ اسے، گونتانامو کے قیدی تو ایک طرف، پوری مسلمان دنیا کے جذبات کی کوئی پرواہ نہ رہے۔‘
خورشید قصوری نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ پوری اسلامی دنیا اس واقعہ پر غصہ میں ہے۔ ’اس لیے میں امریکی انتظامیہ پر زور دیتا ہوں کہ وہ ملزمان کے خلاف سخت اقدامات لے‘۔
پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ اگرچہ امریکہ نے خود کو قرآن کی بے حرمتی کے الزامات سے’دور رکھا ہے‘ لیکن اس واقعہ کی شدت کا تقاضہ ہے کہ امریکہ اس کے خلاف ایکشن لے۔
خورشید قصوری کے مطابق ابو غریب جیل میں قیدیو ں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ’قیدیوں کے ساتھ
بد سلوکی کے اس واقعہ کے مرتکب افراد کےخلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں کیونکہ حالیہ واقعات کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل ہو رہا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا ’اگر الزامات سچ ہیں توامریکہ کا سب سے بُرا دشمن بھی اسلامی دنیا میں امریکہ کےامیج کو وہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جو (اس واقعہ کے مرتکب) افراد نے پہنچایا ہے۔‘
آج پاکستان کے کئی شہروں میں نماز جمعہ کے بعد قرآن کی بے حرمتی کے مذکورہ واقعات کے خلاف شدید احتجاج ہوا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کی سیکٹری خارجہ نے کل کہا تھا ’گوانتانامو میں تفتیشی افراد نے قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو صدمہ پہنچا ہے۔ ہمارے فوجی حکام اس الزام کی پوری طرح سے تفتیش کر رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘