Monday, 28 March, 2005, 03:32 GMT 08:32 PST
برطانوی زرعی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جینیاتی تبدیلی کے ذریعے چاول کی ایک نئی قسم پیدا کی ہے جس کی مدد سے ترقی پذیر ممالک میں وٹامن اے کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے اور بچوں میں اندھے پن کو روکا جاسکے گا۔
سنہری چاول نامی چاولوں کی یہ نئی قسم انسانی جسم میں بیٹا کیروٹین نامی جز کو بڑھا سکتی ہے جو بیس گنا بڑھ کر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
انٹرنیشنل بائیو ٹیکنولوجی کمپنی جو چاول کی اِس نئی قسم کی موجد ہے اپنی ایجاد کو کو ایشیائی تحقیقاتی مراکز میں تجربات کے لیے مفت تقسیم کریگی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کے خلاف ایشیائی ممالک میں پائی جانے والی مخالفانہ رائے کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ متوازن غذا جسم میں وٹامن کی کمی سے نمٹنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔