Saturday, 19 February, 2005, 04:56 GMT 09:56 PST
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ خارج از امکان نہیں ہے لیکن ان کی کوشش ہو گی کہ ایران کے ساتھ معاملات سفارتی ذریعوں سے ہی حل ہو جائیں۔
صدر بش نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام کسی کے حق میں نہیں ہے اور اس کو ایسے ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکہ اور یورپ کے مشترکہ مفادات میں ہے۔
صدر بش نے کہا کہ امریکہ اور یورپ دونوں چاہتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے اور وہ ایران کو ایسے کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں بشطریکہ وہ یک زبان ہو کر بات کریں۔
یورپ کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بیلجیم کے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر بش نہ کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ امریکہ اور یورپ اپنے اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
صدر بش نے کہا کہ امریکہ کو یورپ کے تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ، بقول ان کے ، اکیلے دنیا میں آزادی نہیں پھیلا سکتا۔
ادھر امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈیلا رائس نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کو تنہا کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے اور اس کی صرف کوشش یہ ہے کہ شام ذمہ داری کا ثبوت دے۔
انہوں نے کہا شام کو لبنانی صدر رفیق الحریری کے قتل کی تحقیات میں شریک ہونا چاہیے۔
امریکہ نے شامی فوج کی لبنان میں موجودگی پر تنقید کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ شامی فوج کو لبنان سے نکل جانا چاہیے۔
لبنان میں اپوزیشن جماعتوں نے شام نواز حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا لبنان کی موجودہ حکومت غیر قانونی ہے۔