Tuesday, 11 January, 2005, 11:36 GMT 16:36 PST
انڈونیشیا کی حکومت نے امدادی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آچے کے دور دراز علاقوں میں نہ جائیں۔
انڈونیشیا کی فوج نے کہا ہے کہ امدادی اداروں کو بند آچے اور میلیبو کے علاوہ صوبے کے دیگر علاقوں میں جانے کے لیے حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔
حکومت کو اس صوبے میں طویل مدت سے علیحدگی کی تحریک کا سامنا ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کے مطابق حکومت ایک مرتبہ پھر آچے میں اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سونامی کے بحران کے باعث حکومت نے اس علاقے کو بیرونی اداروں کے لیے کھول دیا تھا۔
آچے میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس نئی ہدایت کے باعث امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آچے میں امدادی کارکنوں کے تحفظ کی گارنٹی نہیں دے سکتی کیونکہ اس بحران میں اس کے بے شمار فوجی مارے گئے ہیں۔
تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ان خدشات کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔
اس سے قبل انڈونیشیا کی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے باغیوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے مطابق ریلیف آپریشن کے دوران لڑائی روک دی جائے گی۔
انڈونیشیائی حکام کے مطابق ملک میں سونامی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔