Monday, 03 January, 2005, 01:17 GMT 06:17 PST
اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے رابطہ کار یان ایگلنڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ دنیا سونامی کے چیلنج سے عہدہ برآ ہوسکے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہ اب زیادہ پرامید ہیں کہ دنیا اس بھاری ذمہ داری کو پورا کر سکے گی۔تاہم انہوں نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبے آچے میں امدادی سامان پہنچانا ابھی تک ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے رابطہ کار یان ایگلنڈ کا اندازہ ہے کے متاثرہ ملکوں میں اٹھارہ لاکھ سے زیادہ افراد کو فی الفور خوراک کی امداد کی ضرورت ہے-
’ہمیں متاثرہ ملکوں میں اٹھارہ لاکھ افراد کو خوراک کی امداد فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس تعداد میں کل سے کئی لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور اس میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ ہمیں اگلے تین چار روز میں سری لنکا میں سات لاکھ افراد کو خوراک پہنچانی ہے اور انڈونیشیا میں دس لاکھ افراد تک خوراک پہنچانے میں اور زیادہ دیر لگے گی۔
لیکن اس کی سست رفتاری پر متاثرہ افراد سخت مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں اب وبائی امراض کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
انڈونیشیا میں سوماترا کے صوبے آچے میں جہاں زیر سمندر زلزلہ کا مرکز تھا اور جہاں اسی ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بنے ہیں امریکہ کا طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کے ہیلی کاپٹر امدادی سامان گرا رہے ہیں۔ لیکن دور افتادہ علاقوں اور جزیروں میں ہزاروں افراد بے سرو سامان اور بھوکے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے ارد گرد اب بھی سمندر میں لاشیں تیر رہی ہیں۔
ہندوستان کے جزائر انڈامان نکوبار میں جو آچے کے زلزلہ کے مرکز سے زیادہ دور نہیں، ہندوستانی فوج کے طیاروں نے متاثرہ افراد کے لئے خوراک اور دوسرا امدادی سامان گرایا ہے۔
انڈامان اور نکوبار میں جہاں ہندوستان کی تینوں افواج کا کمان مرکز ہے ہندوستان کی فضایہ کا اڈہ یکسر تباہ ہو گیا ہے۔
اس علاقہ میں حکام کا کہنا ہے کہ طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی اب تک پانچ ہزار لاشیں ملی ہیں۔
سری لنکا میں جہاں سونامی سے تیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں، امریکہ کے سی ون تھرٹی سامان بردار طیاروں نے امداد پہنچانی شروع کردی ہے۔ لیکن سخت بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے امدادی سامان متاثرہ افراد تک پہنچانے میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔