Saturday, 01 January, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
اقوام متحدہ کے مطابق سونامی سمندری طوفان کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا اندازہ شاید کبھی بھی نہ لگایا جا سکے لیکن ابھی تک کے اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کاموں کے کوآرڈینیٹر یان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ سونامی سے سب سے زیادہ لوگ انڈونیشیا میں ہلاک ہوئے ہیں جہاں آچے کے شمالی سرے میں زلزلہ کا مرکز تھا۔ انڈونیشیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اسی ہزار بتائی جاتی ہے-
چھ روز کی تاخیر، بے حسی اور کنجوسی کے الزامات کے بعد آخر کار امریکہ نے سونامی سمندری طوفان کے متاثرین کی امداد کی رقم میں دس گنا اضافے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ سونامی کے متاثرہ لوگوں کے لیے ساڑھے تین سو ملین ڈالر کی امداد دے گا۔ اس سے پہلے امریکہ نے صرف پینتیس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا-
نامہ نگاروں کے مطابق سونامی کے متاثرین کے لیے ابھی ایک ارب ڈالر کی امدادی رقوم کا اعلان ہو چکاہے لیکن امداد پہنچانے والوں میں رابطہ کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
صدر بش نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ کولن پاول اتوار کو سونامی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے جہاں طوفان کے چھ روز بعد بھی بعض علاقوں میں امداد نہیں پہنچی ہے- اور اب بڑے پیمانے پر وبائی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
عالمی بینک نے سونامی کے متاثرین کے لیے ڈھائی سو ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے اور چین نے تریسٹھ ملین ڈالر دیے ہیں۔ برطانوی حکومت نے پچاس ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ برطانیہ کے عوام نے پچھلے تین روز میں پچاس ملین پاؤنڈ جمع کئے ہیں۔
انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ملک سری لنکا میں ذرائع آمد و رفت کی تباہی امدادی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
سری لنکا کے شمالی علاقوں میں، جو تامل ٹائیگرز کے کنٹرول میں ہیں، کچھ امداد پہچنا شروع ہو گئی ہے۔تامل ٹائیگرز کے کچھ گروپ امدادی کاموں میں سری لنکا کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
بھارت کے زیرانتظام جزیرہ انڈامان میں بچ جانے والوں نے شکایت کی ہے کہ امداد ان تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ حکومت نے بیرونی امدادی ایجنسیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔
بھارت کے اخبار انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ جزیرہ انڈامان پر انڈین ایئر فورس نے حکومت کو سونامی کے بارے میں ایک گھنٹہ پہلے انتباہ کیا تھا لیکن حکومت اس پر کوئی کارروائی نہ کر سکی۔
چھ ہزار مغربی سیاح ابھی تک لاپتہ ہیں۔ لاپتہ مغربی سیاحوں میں سب سے زیادہ سویڈن کے باشندے ہیں۔