Thursday, 16 December, 2004, 21:47 GMT 02:47 PST
عراق کے سابق صدر صدام حسین کی گرفتاری کے ایک سال بعد پہلی بار اپنے وکیل سے ملاقات ہوئی ہے۔
یہ ملاقات بغداد کے ایک نامعلوم مقام پر ہوئی۔
صدام حسین اپنے گیارہ ساتھیوں سمیت امریکی تحویل میں ہیں۔ ان پر جنگی جرائم اور نسل کشی کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ صدام حسین کے کچھ ساتھیوں کے خلاف منگل سے مقدمہ شروع ہو جائے گا۔ مغربی سفارتکاروں کے مطابق یہ ابتدائی نوعیت کی کارروائی ہوگی۔
صدام حسین کے خاندان والوں نے حال ہی میں ان کے وکلاء کی ٹیم کے سربراہ کو برخواست کر دیا تھا اور ان کی جگہ نئے وکیل مقرر کیے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے صدام حسین کے قانونی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے وکیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان کو بغداد کے ایک نا معلوم مقام پر لے جایا گیا۔
صدام حسین کے وکیل نے بتایا کہ ان کی صحت پہلے سے بہتر نظر آرہی تھی جب ان کو چند ماہ پہلے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے وکیل سے بتایا ہے کہ صدام حسین اچھی تھی اور حوصلے بلند تھے۔