Saturday, 02 October, 2004, 17:34 GMT 22:34 PST
جوناتھن مارکوس
بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار
امریکی اور عراقی افواج کا مزاحمت کاروں کے خلاف سمارا میں آپریشن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عراق کی عبوری انتظامیہ انتخابات سے پہلے اس طرح کے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے۔
عراق میں ہونے والے قتل و خون کے باوجود امریکی اور عراقی حکام اس بات پر مُصر ہیں کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔
لیکن کیا یہ انتخابات منصفانہ ہوں گے؟ یہاں رائے ذرا مختلف ہو جاتی ہے۔
یہ صاف ظاہر ہے کہ کئی علاقوں میں سکیورٹی کی وجہ سے ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔
لیکن لندن میں عراق کے عبوری وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے کہا تھا کہ اگلے سال جنوری تک ’زیادہ تر عراقی ووٹ ڈالنے کے قابل ہو جائیں گے‘۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آج کے عراق میں جہاں کار بم چل رہے ہیں، اغوا کے واقعات اور تشدد زوروں پر ہے، وہاں منصفانہ اور پراثر انتخابات کا انعقاد مشکل نظر آتا ہے۔
عراقی حکومت کو دو محاذوں پر جنگ جیتنی ہے۔ ایک حقیقی جنگ اور دوسری نفسیاتی۔ اسے بغداد کے شمال اور شمال مغرب میں سنی تکون کے اہم شہروں کو قابو میں کرنا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے عام عراقیوں کو یہ بھی بتانا ہے کہ وہ سکیورٹی جیسے بڑے مسئلے سے نمٹ سکتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ امریکہ ملٹری کے نکتۂ نظر سے فلوجہ جیسے شہروں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ اس کے پاس فائر پاور اور اس طرح کے شہروں میں لڑنے کی تربیت بھی ہے۔
بلکہ جب امریکی میرینز نے فلوجہ پر بڑا حملہ کیا تھا تو وہ تقریباً جیت کے نزدیک تھے کہ انہیں واپسی کا حکم مل گیا۔ بڑے کمانڈر اس سے ناراض بھی تھے۔
لیکن یہ جیت کس قیمت پر ہو گی؟ یہاں پہ مسئلہ زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
![]() کیا معصوم شہریوں کو مارنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا |
اگر امریکی فوج پیش قدمی کرے تو جنگ کے فوراً بعد عراق فوج کو کنٹرول دے دے۔ اس آپریشن کے اوقات بھی بڑے سیاسی محرکات ہو سکتے ہیں۔
عراق میں ووٹروں کا اندارج نومبر کے آغاز میں ہو گا اور تقریباً اسی دوران امریکی ووٹر صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے جائیں گے۔
بش انتظامیہ نے اشارہ کیا ہے کہ آنے والا وقت کٹھن ہو سکتا ہے۔ اگر امریکی فوج عراق میں حملے کرے گی تو امریکی ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ کم از کم امریکی انتخابات تک امریکی فوج کسی بڑے حملے سے گریز کرے اور چھوٹے چھوٹے حملے کرتی رہے۔
لیکن ایاد علاوی کا یہ کہنا کہ مزاحمت کاروں کے قریب گروہوں سے بھی رابطہ قائم کیا گیا ہے بڑا دلچسپ اور معنی خیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی مذاکرات عراق سے باہر ہوئے ہیں۔ مقامی سرداروں کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے انہیں انتخابات سے فائدہ پہنچے گا۔
اس حوالے سے جب ایاد علاوی کہتے ہیں کہ اگلے چند مہینے عراق کے مستقبل کے لیے اہم ہیں تو وہ سچ ہی کہتے ہیں۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ مزاحمت کاروں کے پاس کتنی طاقت ہے کہ وہ اپنے حملے جاری رکھ سکیں گے لیکن یہ ظاہر ہے کہ انہوں نے امریکی انتخابات سے پہلے اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اور یہ بھی صاف ہے کہ عراق کے مستقبل کے لیے حقیقی جنگ کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔