Sunday, 26 September, 2004, 12:23 GMT 17:23 PST
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنے کے لیے ناقص خفیہ اطلاعات کو استعمال کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بی بی سی کےساتھ ایک انٹرویو میں ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاعات غلط تھیں۔
لیکن جب ان کو کہا گیا کہ کیا وہ غلط اطلاعات کی بنیاد پر شروع کی جانے والی جنگ پر معافی مانگیں گے تو برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں پہلے ہی ’سوری‘ کہہ چکے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا: ’ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ میں صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے فیصلے پر معافی مانگوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔‘
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو اب محسوس ہوتا ہے کہ صدام حسین کو اقتدارسے ہٹانے کے بعد عراقی فوج کو فوراً نہیں ختم کرنا چاہیے تھا۔
ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ عراق میں برطانوی فوج اس وقت تک رہے گی جب تک وہاں کی مقامی حکومت امن عامہ کی صورتحال کو قابو میں کرنے کے قابل نہیں ہو جاتی۔
نہوں نے کہا کہ اس عراق سے فوج کو واپس بلانے کا مطلب شکست تسلیم کرنا ہو گا۔
ٹونی بلیئر نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے سنجیدگی سے غور کیا تھا۔ ’میں دباؤ میں آنے والا نہیں ہوں‘۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ عراق میں یرغمال برطانوی کینتھ بنگلی کی رہائی کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن وہ ان کے رہائی کے لیے کچھ زیادہ کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔