Wednesday, 22 September, 2004, 21:09 GMT 02:09 PST
اقوام متحدہ کے انسٹھویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مسلم دنیا اور مغربی ممالک میں ایک آہنی پردہ حائل ہو رہا ہے جس کو روکنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
صدر مشرف نے اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران عالمی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو انصاف ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ، بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک امن کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کو ختم کیا جانا ضروری ہے لیکن اس ضمن میں جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ نا کافی ہے۔
مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جنم دینے والے عوامل کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کے طاقت ور ملک ابھی تک ان عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔
صدر مشرف نے افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں کہا کہ پاکستان ہر ممکن کوشش کرئے گا کہ شدت پسند پاکستان کی سرزمین استعمال کر کے افغانستان کے انتخابات کے دوران کوئی تخریبی کارروائی نہ کریں۔
صدر مشرف نے اس سے قبل امریکی صدر بش سے ناشتے کی میز پر ملاقات کی۔