Monday, 13 September, 2004, 16:40 GMT 21:40 PST
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے حالیہ ہفتوں میں کئی پُر تشدد واقعات کے بعد سیکیورٹی سخت کرنے کے لیے ملک میں وسیع پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ’دہشت گردی‘ پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے نئی وفاقی انسداد دہشت گردی کی ایجنسی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
روس کے صدر نے یہ اعلانات کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں کیے جس میں ملک بھر سے آئے علاقائی گورنر بھی شریک تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق صدر پوتن نے کہا کہ ’دہشت گردی کے منصوبے بنانے والے اور ان پر عمل کرنے والے ملک کو توڑنا چاہتے ہیں‘۔
مجوزہ تبدیلیاں
صدر پیوتن کی طرف سے اعلان کردہ تبدیلیوں میں علاقائی گورنر منتخب کیے جانے کی بجائےصدر مملکت کے نامزد کردہ ہوں گے، سزائے موت بحال کی جائے گی، غیر ملکیوں کی سخت چھان بین، ماسکو میں کوہ قاف سے آنے والے ہر شخص پر نظر رکھی جائے گی اور شمالی کوہ قاف کے بارے میں ایک کمیشن قائم ہوگا۔
نامہ نگاروں کے مطابق نئے اقدامات سے صدر پوتن کو مزید اختیارات حاصل ہوں گے اور پہلے سے کمزور حزب اختلاف مزید کمزور ہو گی۔