Tuesday, 10 August, 2004, 13:02 GMT 18:02 PST
جاپان میں اس جوہری فرم کے خلاف تحقیقات شروع ہو گئی ہیں جس میں پیر کو ایک حادثہ میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق فرم پر لاپرواہی کاشبہہ ہے۔
کانسائی ایلکٹرک پاور نامی اس فرم نے اعتراف کیا ہے کہ اُسے گزشتہ سال پھٹنے والے پائپ کے بارے میں تنبیہ کی گئی تھی کہ یہ حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ اس پائپ کا اس خیال سے دوبارہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ وہ اتنی جلدی خراب نہیں ہو سکتا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس پائپ کا آخری بار تفصیل کے ساتھ انیس سو چھہتر میں معائنہ کیا گیا تھا۔
حکام کا اصرار ہے کہ پیر کے روز ہونے والے حادثے میں ریڈیائی لہریں خارج نہیں ہوئیں۔
اس حادثے میں بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی کی زد میں آکر چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔
جاپان کے جوہری پلانٹوں میں پہلے حادثے میں اتنا جانی نقصان کبھی نہیں ہوا اور اس سے ایک بار پھر جوہری صنعت میں حادثوں کے امکان کے باعث اس پر لوگوں کا اعتماد متزلزل ہوگا۔
ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکومت نے اس حادثے کے بعد بائیس دیگر جوہری کمپنیوں کو حفاظتی انتظامات پر نظر ثانی کی ہدایات دی ہیں۔