Monday, 09 August, 2004, 11:18 GMT 16:18 PST
صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے ٹریبیونل کے سربراہ صالم چلابی نے اپنے خلاف قائم کیے قتل کے مقدمے کو مضحکہ خیر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔
لندن میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی کردار کشی کی جارہی ہے اور بغداد میں ان کے زیر استعمال رہنے والے مکان پر حال ہی میں گولہ باری ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک عراق واپس نہیں جائیں گے جب تک ان کے تحفظ کے بارے میں یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔
یاد رہے کہ عراق کی مرکزی فوجداری عدالت کے سب سے بڑے جج نے صالم چلابی اور ان کے چچا احمد چلابی کے خلاف وارنٹ جاری کئے ہیں۔
دریں اثنا عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ بعقوبہ میں ایک کار بم حملے میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق غالبا ًاس حملے کا مقصد دیالا صوبے کے نائب گورنر عقیل حامد العدیلی کو ہلاک کرنا تھا۔
بغداد کے مغرب میں انبار صوبے میں ایک امریکی میرین کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔
اس کے علاوہ نجف میں امریکی فوج اور شیعہ جنگجؤوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ امریکی ہیلی کاپٹر شہر پر پرواز کرتے رہے اور مشین گنوں اور مارٹر گولوں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراقی وزیر اعظم کی طرف سے نجف چھوڑنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
حضرت علی کے روضہ کے احاطے میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک نجف میں موجود رہیں گے اور شہر کی حفاظت کریں گے۔
یادرہے کہ گزشتہ روز نجف کے دورے کے دوران وزیر اعظم ایاد علاوی نے مقتدیٰ الصدر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیں اور شہر چھوڑ دیں۔