Friday, 25 June, 2004, 11:53 GMT 16:53 PST
عراق میں یرغمالی کا سر قلم کیے جانے کے معاملے پر کوریائی حکومت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے یرغمالی کو بچانے پر امریکہ سے تعلقات کو ترجیح دی۔
کوریا بھر میں کم سن ال کی وہ تصاویر دکھائی گئی ہیں جن میں وہ انتہائی اضطراب کے عالم میں اپنی زندگی بچائے جانے کی بھیک مانگ رہا ہے۔
یہ تصویر تیتیس سالہ کم کا سرقلم کیے جانے کے دو روز پہلے کی ہیں کیونکہ اس کو یرغمال بنانے والوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق کوریا نے عراق میں امریکہ کا ساتھ دینا بند نہ کیا تو وہ کوریائی یرغمالی کا سر قلم کر دیں گے۔
مقتول یرغمالی کے ضعیف والدین کو اب تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ آخر ان کے بیٹے کو کیوں قتل کیا گیا ہے۔
وہ کوریائی حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے ان کے بیٹے کو بچانے پر امریکہ سے اپنے تعلقات کو زیادہ ترجیح دی اور کوریائی شہریوں کی اکثریت اس رائے میں ان کی ہم خیال ہے۔
سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس سکینلون کے مطابق ایک تیتیس سالہ شہری چو می ینگ نے اس بارے میں ان سے کہا کہ ’میں نے کوئی آدھی رات کو یہ خبر سنی اور یہ اس قدر ہولناک تھی کہ میں اس کے بعد سو نہیں سکا۔‘
![]() کم کے ہلاکت سے عراق میں کوریائی فوج بھیجنے کے خلاف احتجاج میں اضافہ ہو گا |
کم کے اغوا اور اس کے بعد اس کا سر قلم کیے جانے نے اس حمایت کو اور مضبوط کیا ہے جو عراق میں فوجیں بھیجنے کے خلاف رائے کے حق میں ہے۔
کوریائی صدر نے کہا کہ وہ کم کا سر قلم کیے جانے کی خبر سے دل شکستہ ہیں لیکن وہ موسمِ گرما میں مزید فوجی عراق بھیجنے کے منصوبے میں کوئی رد و بدل نہیں کریں گے۔
اس خبر کے بعد انہوں نے کوریائی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے فوجی عراق میں جارحیت کے لیے نہیں عراق میں تعمیر نو کے امور میں مدد دینے کے لیے ہیں۔‘
کم سن ال امریکی فوج کو سپلائی دینے والی ایک کمپنی میں مترجم کی حیثیت سے ملازم تھے اور انہیں گزشتہ ہفتے فلوجہ کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا اور ان کا بے سر جسم تین روز قبل مغربی بغداد سے ملا تھا۔
جنوبی کوریا نے کم کو یرغمال بنانے والوں کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا کہ کم سن کی زندگی بچانے کے لیے وہ عراق میں فوجی کردار ختم کر دے۔
عربی سیٹلائٹ چینل الجزیرہ نے کم سن کا سر قلم کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اسے ایک نئی ٹیپ موصول ہوئی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کوریائی باشندے کو یرغمال بنانے والوں نے اسے ہلاک کر دیا ہے۔‘
اس کوریائی یرغمالی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ جماعت التوحید و جہاد نے کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کی حامی تنظیم ہے۔