Friday, 25 June, 2004, 09:12 GMT 14:12 PST
جنوب مشرقی ایران میں ایک آئل ٹینکر بسوں کے ساتھ ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں زبردست آگ بھڑک اٹھی جس میں کم از کم نوے افراد ہلاک جبکہ بہت سے زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ تصادم ایران کے شہر زاہدان کی اس مصروف ترین شاہراہ پر ہوا ہے جو ایران کو پاکستان سے ملاتی ہے۔
امدادی ادارے ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اب تک نوے لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ بہت سی لاشیں جل کر اتنی مسخ ہوچکی ہیں کہ ان کی شناخت بھی ممکن نہیں۔ بہت سے مسافر موقع پر آگ بجھانے کا مناسب انتظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے جل کر موت کا شکار ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک چیک پوائنٹ پر آئل سے بھرا ایک بڑا آئل ٹینکر اپنا توازن کھو بیٹھا اور وہاں کھڑی آدھی درجن بسوں سے جاٹکرایا۔ یہ بسیں وہاں معائنے کے لیے کھڑی تھیں۔ ٹینکر پھٹ گیا اور علاقے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
یہ ٹینکر اٹھارہ ہزار لیٹر پٹرول سے لیس تھا۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
ایران میں ہر سال بائیس ہزار افراد ٹریفک حادثات کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایران کی پر خطر سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں سے یہ بدترین حادثہ تھا۔ نامہ نگار کے مطابق ایران میں سڑک کے حادثات میں ہر ماہ ہلاک ہونے والے افراد کی اوسط تعداد انیس سو اسی میں عراق کے ساتھ جنگ میں ہر ماہ ہونے والی ہلاکتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
کچھ اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو تک جاسکتی ہے۔