Thursday, 17 June, 2004, 12:54 GMT 17:54 PST
عروج جعفری
کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور ملک کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے ترجمان منور سہروردی کو کراچی کےعلاقے گرومندر میں بزنس ریکارڈر روڈ پر نا معلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
وہ بلاول ہاؤس کے ترجمان بےنظیر کے گارڈ اور سندھ حکومت کے مشیر بھی رہ چکے تھے۔
![]() منور سہروردی کے قتل کے بعد شہر میں کئی گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں |
اس واقعے کے فوری بعد سے شہر میں کشیدگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔ گرومندر اور بنوری ٹاؤن سمیت شہر کے مختلف علاقوں سے گاڑیاں جلائے جانے اور ہنگامہ آرائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
![]() کراچی میں نذر آتش کی جانے والی دو گاڑیاں |
واضح رہے کہ منور سہروردی کے چھوٹے بھائی کو سات آٹھ سال قبل ان کے گھر واقع حیدرآباد کالونی کے قریب گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سے وہ مسلسل بے ہوش ہیں اور آغا خان میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کا بیرون ملک بھی علاج کرایا تاہم ان کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
منور سہروردی انتہائی نو عمری سے پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے۔
اسی علاقے میں کچھ عرصہ قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کے شیخ مولانا شامزئی کو قتل کر دیا گیا تھا۔
بینظیر کا ردِعمل
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے منور سہروردی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قتل کی انکوائری جسٹس اسلم ناصر زاہد اور جسٹس مامون قاضی سے کروائی جائے۔
![]() منور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے |
بینظیر بھٹو نے پارٹی کے تمام صوبائی صدور ، مختلف تنظیموں اور پارلیمان کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ منور سہروردی کے قتل پر تین روز احتجاج کریں۔
دریں اثناء اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق منور سہروردی کے قتل کے خلاف حزب اختلاف نے پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ امن امان قائم کرنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔
سہروردی کے قتل کی نہ صرف حزب اختلاف بلکہ حکومت کی جانب سے بھی مذمت کی گئی ہے ۔ حکومت کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سہروردی پیپلزپارٹی اور ان کی جماعت میں ایک پل کا کام کرتے تھے۔
حزب اختلاف نے سہروردی کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ بھی کیا۔