Monday, 14 June, 2004, 00:41 GMT 05:41 PST
یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں براعظم یورپ کے کئی ملکوں میں ووٹروں نے حکمراں جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے۔
اس کے مقابلے میں ان جماعتوں کی کارکردگی بہتر رہی جو وسیع تر یورپی اتحاد سے شاکی ہیں۔
جرمنی میں حکمراں سوشل ڈیموکریٹس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد سے بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے صرف بائیس فی صد ووٹ ملے۔
اسی طرح برطانیہ میں بھی حکمراں لیبر پارٹی پر ووٹروں کی اکثریت نے اعتماد کا اظہار نہیں کیا بلکہ یوکے انڈیپینڈس پارٹی جو یورپی یونین سے علیحدگی کی حامی ہے رائے دہندگان کو اپنے حق میں قائل کرنے میں کامیاب رہی۔
فرانس اور اٹلی میں بھی کم و بیش ایسے رجحانات دیکھنے کو ملے۔ تاہم سپین میں نئی منتخب ہونے والی حکومت نے اس رجحان کو بدلا ہے۔
مجموعی طور پر یورپی پارلیمنٹ پر مرکزی دائیں بازو کے بلاک کا کنٹرول رہے گا۔
ان انتخابات میں ایک سو پچپن ملین ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
یورپی پارلیمنٹ کے سبکدوش ہونے والے صدر پیٹ کاکس نے ان انتخابات کو براعظم کی تاریخ میں سب سے بڑا جمہوری عمل قرار دیا۔
تاہم اب تک انتخابات میں ووٹروں کی سب سے کم تعداد رہی۔ ووٹوں کی شرح چوالیس فی صد سے کچھ اوپر رہی۔