Thursday, 03 June, 2004, 23:46 GMT 04:46 PST
عراق کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ نئی قرار داد کے تحت جون کے اختتام تک اقتدار کی منتقلی کے بعد عراق کو مکمل خود مختاری حاصل ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ہوشیار زباری نے کہا کہ اس قرارداد کے ذریعے ’قابض‘ کا لفظ ختم کردینا چاہیے اور اسے اختیار کی منتقلی کے عمل کو شفاف اور کھرا بنانے میں مددگار ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی سرزمین پر امریکہ کی قیادت والی افواج کی موجودگی کے بارے میں عراق کی رائے کو بھی اہمیت حاصل ہونی چاہیے اور یہ کہ تیس جون کے بعد اپنے اثاثوں اور وسائل پر مکمل بھی اسے مکمل اختیار ہونا چاہیے۔
ہوشیار زباری نے کہا کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل ’کافی حد تک قانون کے مطابق اور معقول‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ’بے عیب‘ تو نہیں ہے تاہم موجودہ صورتحال میں یہی بہترین قابل عمل طریقہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عراق کی رائے سب ہی کو سننی چاہیے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ’ہم ایسی قرارداد چاہتے ہیں جس میں عراق کو مکمل خودمختاری حاصل ہو اور اسے پچھلی قرار داد سے صاف طور پر مختلف ہونا چاہیے جس میں ملک پر قبضے کو جائز قرار دیا گیا ہے‘۔
کئی سفارتکاروں نے اس مطالبے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم کئی ممالک کا کہنا ہے کہ قرارداد کے اس مسودے پر ابھی اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔
جرمنی کے سفارتکار نے اس مسودے کو ’ایماندارانہ کوشش‘ قرار دیا۔
قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے لیے ضرورت کی بنیاد پر امریکی قیادت والی افواج اقدامات لے سکتی ہیں تاہم اس میں جنوری 2006 میں عام انتخابات کے بعد عراق سے ان افواج کی واپسی کی تاریخ متعین کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس سے قبل امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کردہ قرار داد پر کئی ممالک نے اعتراض کیا تھا۔ قرارداد کے پہلے مسودے میں عراقیوں کو فوجی معاملات میں اختیارات نہیں دیئے گئے تھے۔